
تہران: ولی امرالمسلمین آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے تاریخی خطبہ جمعہ میں ملت اسلامیہ کے اتحاد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ مسلمانوں کا دشمن ایک ہی ہے لیکن ہر ایک کے ساتھ دشمنی کے طریقے مختلف ہیں۔
رہبر انقلاب اسلامی نے خطبہ جمعہ میں فرمایا کہ اگر مسلمان ایک دوسرے کا خیال رکھيں تو اللہ ان پر رحمت نازل کرے گا۔ رحمت الٰہی میں زندگی کا ہر پہلو شامل ہوتا ہے تاہم قرآن مجید میں اتحاد کی صورت میں جس رحمت کی بات کی گئی ہے وہ مختلف ہے اور اس کا مطلب اللہ کی جانب سے طاقت و توانائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کا دشمن فلسطین، لبنان، عراق، مصر، شام اور یمن کا بھی دشمن ہے۔ فلسطینی حق پر ہیں اور ہم فلسطین کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہر ملک کو جارح کے خلاف اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ جس طرح سات اکتوبر کا حملہ جائز تھا۔ اسی طرح ایران کا اسرائیل پرحملہ بھی جائز ہے۔ مسلمان متحد ہو جائیں تو دشمنوں پر قابو پاسکتے ہیں۔ ہماری مسلح افواج نے جو کیا وہ صیہونی حکومت کے اتنے بھیانک جرائم پر بہت معمولی سزا تھی۔ ایران اس سلسلے میں اپنی ہر ذمہ داری پر پوری طاقت کے ساتھ عمل کرے گا۔ ایران اپنی اس ذمہ داری پر عمل کے سلسلے میں نہ جلد بازی کرے گا نہ تاخیر۔
آپ نے مزید کہا کہ شہید سید حسن نصر اللہ عالم اسلام کے ترجمان تھے۔ ہم سید حسن نصراللہ کےلئے سوگوار ہيں لیکن ہمارا سوگ مایوسی کی وجہ سے نہيں ہے بلکہ امام حسین علیہ السلام کی عزاداری کی طرح ہے یعنی ان کی یاد کو زندہ رکھنے کےلئے۔ دشمن آج حماس اور حزب اللہ اور دیگر مزاحمتی تنظیموں کو چونکہ نقصان نہیں پہنچا سکتا اس لئے وہ ٹارگٹ کلنگ اور عام شہریوں کے قتل عام کو اپنی فتح کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے لیکن اس سے مجاہدوں کے عزم میں اضافہ ہوگا اور ان کی تعداد بھی بڑھے گی اور اس سے خون آشام صیہونی بھیڑیوں کے گرد محاصرہ تنگ ہوگا۔
آج زخمی لبنان کی مدد کرنا اور اس کا احسان اتارنا ہم سب مسلمانوں کی ذمہ داری اور فریضہ ہے۔ سید حسن نصراللہ نے فلسطین کی مدد کےلئے جہاد کیا، بیت المقدس کی آزادی کےلئے جد و جہد کی۔
امریکہ نے صیہونی حکومت کے تحفظ کی گارنٹی لی ہے جو در اصل علاقے کے تمام وسائل و ذخائر پر قبضہ کرنے کی سازش ہے۔ ان کا مقصد صیہونی حکومت کو مغرب کےلئے انرجی اور سامان کی فراہمی کا دروازہ بنانا ہے۔ صیہونی حکومت کا وجود اسی لئے امریکہ اور مغرب کے لئے ضروری ہے۔ یقیناً امریکہ اور صیہونیوں کا یہ خواب، چکناچور ہوگا۔
آپ نے کہاکہ غزہ کے عوام کی مزاحمت نے صیہونی حکومت کی یہ حالت کر دی کہ اب اس کی سب سے بڑی فکر یہ ہے کہ کس طرح سے اپنے وجود کو بچائے۔ غزہ اور لبنان کی مزاحمت و جدوجہد نے صیہونی حکومت کو 70 برس پيچھے کر دیا ہے۔


































