
میں دو بچوں کی ماں ہوں،
ایک تین سال کا ہے اور ایک پانچ سال کا، آپس میں بہت زیادہ لڑتے ہیں۔ اس عمر میں بچے کیوں اتنا لڑتے جھگڑتے ہیں؟ مجھے کیا کرنا چاہیے؟
چھوٹے بچوں کے آپس میں لڑنے جھگڑنے سے اکثر والدین خود پریشان ہو جاتے ہیں۔ در حقیقت ایسے رویے ان کی فطری نشوونما اور سماجی تربیت کا حصہ ہوتے ہیں۔ حد سے زیادہ لڑنے جھگڑنے کا سبب بعض اوقات ہم والدین ہوتے ہیں۔ یہاں پر ممکنہ سبب اور راہ حل پیش کرتے ہیں:
سبب
حسد یا احساسِ محرومی
صرف ایک بچے کو زیادہ توجہ دینا اور اسے کسی بھی چیز سے محروم نہ کرنا اس بات کا موجب بن سکتا ہے کہ دوسرے بچے میں حسد یا احساس محرومی وغیرہ پیدا ہو جائے۔
راہ حل
امتیازی سلوک نہ کریں
دونوں بچوں کو یہ محسوس نہیں ہونا چاہیے کہ ان میں سے کسی ایک کے ساتھ امتیازی برتاؤ کیا جا رہا ہے بلکہ یکساں محبت اور توجہ کا محور قرار دیں تاکہ حسد یا احساسِ محرومی پیدا نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "عدل کرو، بے شک عدل تقویٰ کے قریب تر ہے” – (سورہ مائدہ 8)
نرمی اور برداشت سکھائیں
بچوں کو چھوٹی عمر سے ہی صبر، معافی اور بھائی چارے کی عادت ڈالیں۔ انہیں سکھایا جائے کہ ہمیں دوسرے کے لیے بھی وہی پسند کرنا چاہیے جو اپنے لیے کرتے ہیں۔
انفرادی وقت دیں
اس عمر میں لڑائی عام ہے، زیادہ فکر نہ کریں۔ یہ ان کی Social Skills سیکھنے کا حصہ ہے۔ دونوں بچوں کو انفرادی وقت دیں تاکہ وہ آپ کی محبت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ نہ جھگڑیں۔
تشویق کریں اور پُرسکون رہیں
جب وہ مل جل کر کھیلیں تو ان کی تعریف کریں اور انعام وغیرہ دیں اور اسی طرح ان کی لڑائی پر فوراً غصہ نہ کریں بلکہ صبر اور حکمت سے کام لیں۔
کام، کھیل اور ذمہ داریاں تقسیم کرنا
کھلونے اور کھیل کے اوقات بانٹ دیں تاکہ ہر بچے کو اپنی باری ملے۔ بڑے بچے کو چھوٹے کی مدد کرنے کا کام دیں (جیسے کھلونے اٹھانے میں ساتھ دینا) تاکہ بھائی چارہ بڑھے۔
کردار سازی کی کہانیاں
انبیاؑ، آئمہؑ یا اولیاءکرام کی اخلاقی کہانیوں کے ذریعے انہیں بھائی چارے، تعاون اور ایثار کی مثالیں دیں۔
آئیڈیل بنیں
بچے والدین کو دیکھ کر سیکھتے ہیں اس لیے آپ اور گھر کے بڑے ایک دوسرے سے محبت اور تعاون کا عملی مظاہرہ


































