گلوان وادی ،چین بھارت کشیدگی
عالمی سطح پر ایک طرف کرونا کی تباہ کاریاں جاری ہیں تو دوسری طرف مشرق و مغرب میں کئی سیاسی مسائل اور بحران بھی شدت پکڑ رہے ہی۔ مثال کے طور پر پوری دنیا کرونا بحران سے نبردآزما ہے تو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اپنی معمول کی ایران دشمن سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جسکی تازہ مثال ایٹمی توانائی کے عالمی ادارے آئی اے ای اے پر یورپی ٹرایئکا یعنی فرانس، برطانیہ اور جرمنی کے ذریعے دباو ہے۔ اسی دوران ایک اور چیز جو علاقائی اور عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے وہ چین بھارت سرحدی کشیدگی ہے۔ نیویارک ٹائمز سمیت کئی معروف اخبار اور ٹی وی چینل جس طرح ان خبروں کو اوچھال رہے ہیں اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بغض سر چڑھ کر بول رہا ہے۔مغرب کو اب یقین ہو گیا ہے کہ مستقبل مشرق کا ہے لہذا وہ مشرق میں ابھرنے والی طاقتوں کو کسی نہ کسی بحران میں مبتلا رکھنے کا خواہاں ہے۔ چین اور ہندوستان کے درمیان دنیا کی طویل ترین سرحد ہے اور ساٹھ کے عشرے سے سرحدی کشیدگی موجود رہی ہے۔سن 1962 کے علاوہ کوئی بڑی کشیدگی پیدا نہیں ہوئی، لیکن متنازعہ مسائل کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ مئی کے پہلے ہفتہ میں حالیہ کشیدگی کا آغاز ہوا جو اب تک دونوں طرف کے درجنوں فوجیوں کی ہلاکتوں کے باوجود جاری ہے۔ چین اور بھارت کے درمیان گلوان وادی آج کل خصوصی طور پر موضوع بحث ہے۔بعض تجزیہ نگار اسے مشرق کی دو ابھرتی عالمی طاقتوں کی رقابت قرار دے رہے ہیں، بعض کے نزدیک امریکہ ہندوستان کے ذریعے چین کو محدود کرنے کے لیے یہ کھیل کھیل رہا ہے، بعض کا یہ کہنا ہے کہ چین اقتصادی میدان میں جس انداز سے پورے خطے کو ون روڈ ون بیلٹ منصوبے کے تحت اپنے تسلط میں لینا چاہتا ہے بھارت اس میں اپنا حصہ لینا چاہتا ہے، اسی طرح چین پاکستان کے درمیان تجارتی کوریڈور سی پیک خطے کے بعض ممالک بالخصوص امریکہ کے لیے ناقابل قبول ہے لہذا اسے خراب کرنے کے لیے پہلے کشمیر میں کشیدگی پیدا کی گئی، اب لداخ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔


































