Thu Oct 08, 2026

ایران کے حملوں کے بعد امریکی فوج نے کویت کا اہم اڈہ خالی کر دیا بھارت پاکستان میں دہشت گردی کیلئے طالبان کی مدد کر رہا ہے: جواد اجمل شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوج بھیجنے پر غور پیوٹن کا ایران کی تاریخی اور غیر معمولی ثابت قدمی کا خیرمقدم ایران کی لبنان میں جنگ کے متاثرین کیلئے حزب اللہ کو 20 کروڑ ڈالر کی امداد ڈی جی آئی ایس پی آر کی سعودی عرب میں فوجی تعیناتی کی تصدیق فرانس میں طلبہ مظاہرین پر پولیس تشدد، تہران میں فرانسیسی سفیر کی طلبی امام بارگاہ کی مبینہ بے حرمتی کا معاملہ، ایم ڈبلیو ایم کا ملوث عناصر کی گرفتاری کا مطالبہ اسرائیلی ڈرون حملے اور فائرنگ، 4 فلسطینی شہید، 20 سے زائد زخمی آبنائے ہرمز کھلی رہے گی یا بند، اس کا فیصلہ ٹرمپ کی کھوکھلی پوسٹس نہیں کریں گی ریاض میں ایئرپورٹ پر حملے، 3 افراد ہلاک، 36 زخمی امریکا فوجی جنگ کی طرح اقتصادی جنگ میں بھی ناکام ہوگا، محسن رضائی اسرائیل کیجانب سے غزہ میں نسل کشی کے 3 سال مکمل، ہرطرف تباہی و بربادی ایران کو یورینیم افزودگی کی صلاحیت میں نمایاں کمی کرنا ہوگی، امریکی نائب صدر جے ایران کیخلاف کارروائیوں میں کم از کم 81 امریکی فوجی طیاروں کو نقصان پہنچا: رپورٹ

روزانہ کی خبریں

آیت الله العظمی جوادی آملی حفظہ اللہ:

آیت الله العظمی جوادی آملی حفظہ اللہ:

فرزند کا والدین کے ساتھ احسان براہِ راست اور مسلسل ہونا چاہیے۔ اولاد پر لازم ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے والدین کے احترام اور تکریم میں حدِ کمال بجا لائے، خاص طور پر اس وقت جب وہ بڑھاپے اور کمزوری کی حالت میں ہوں۔

بڑھاپے کا ذکر اس لیے ہے کہ اس دور میں والدین کو سب سے زیادہ سخت حالات کا سامنا ہوتا ہے اور وہ زیادہ توجہ کے محتاج ہوتے ہیں؛ ورنہ والدین کے ساتھ اچھا برتاؤ، کامل احترام اور گفتگو میں نرمی، زندگی کے کسی خاص دور کے ساتھ مختص نہیں ہے، بلکہ ہمیشہ واجب ہے۔

اسی طرح اس جملے سے کہ قرآن نے فرمایا:

یہ سمجھا جاتا ہے کہ اولاد کو چاہیے کہ والدین یا ان میں سے کسی ایک کو بڑھاپے میں اپنے پاس رکھے اور خود ان کی دیکھ بھال کرے، نہ کہ انہیں گھر سے الگ کر دیں ۔

کیونکہ بڑھاپے میں والدین کی ناتوانیاں، مشکلات اور توقعات بڑھ جاتی ہیں اور بعض اوقات اولاد ان کی طرف فطری محبت بھی کم ظاہر کرتی ہے۔ اسی لیے ذات اقدسِ الٰہی نے تاکید کے ساتھ حکم دیا ہے کہ ان کے سامنے "اُف” تک نہ کہا جائے اور ان کے دل کو نہ دکھایا جائے، بلکہ ان سے ہمیشہ نرم اور کریمانہ انداز میں گفتگو کی جائے۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular