
آیت الله العظمی جوادی آملی حفظہ اللہ:
فرزند کا والدین کے ساتھ احسان براہِ راست اور مسلسل ہونا چاہیے۔ اولاد پر لازم ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے والدین کے احترام اور تکریم میں حدِ کمال بجا لائے، خاص طور پر اس وقت جب وہ بڑھاپے اور کمزوری کی حالت میں ہوں۔
بڑھاپے کا ذکر اس لیے ہے کہ اس دور میں والدین کو سب سے زیادہ سخت حالات کا سامنا ہوتا ہے اور وہ زیادہ توجہ کے محتاج ہوتے ہیں؛ ورنہ والدین کے ساتھ اچھا برتاؤ، کامل احترام اور گفتگو میں نرمی، زندگی کے کسی خاص دور کے ساتھ مختص نہیں ہے، بلکہ ہمیشہ واجب ہے۔
اسی طرح اس جملے سے کہ قرآن نے فرمایا:
یہ سمجھا جاتا ہے کہ اولاد کو چاہیے کہ والدین یا ان میں سے کسی ایک کو بڑھاپے میں اپنے پاس رکھے اور خود ان کی دیکھ بھال کرے، نہ کہ انہیں گھر سے الگ کر دیں ۔
کیونکہ بڑھاپے میں والدین کی ناتوانیاں، مشکلات اور توقعات بڑھ جاتی ہیں اور بعض اوقات اولاد ان کی طرف فطری محبت بھی کم ظاہر کرتی ہے۔ اسی لیے ذات اقدسِ الٰہی نے تاکید کے ساتھ حکم دیا ہے کہ ان کے سامنے "اُف” تک نہ کہا جائے اور ان کے دل کو نہ دکھایا جائے، بلکہ ان سے ہمیشہ نرم اور کریمانہ انداز میں گفتگو کی جائے۔


































