
آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی (دام ظلہ):
خدا مرحوم علامہ مجلسی (رضوان اللہ تعالیٰ علیہ) پر اپنی رحمت نازل فرمائے۔
انہوں نے بحارالانوار میں ایک نورانی حدیث نقل کی ہے کہ:
کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کوئی شخص کہیں بیٹھا ہوتا ہے اور اچانک کوئی گناہ جو اس نے بیس یا تیس سال پہلے، جوانی کے زمانے میں کیا تھا، یاد آجاتا ہے۔
یہ سمجھ لینا چاہیے کہ یہ یاد آنا، دراصل خدا کی عنایت اور رحمت ہے۔
اللہ تعالیٰ خود اسے متوجہ کرتا ہے کہ:
تم نے فلاں وقت یہ گناہ کیا تھا، اب کہو:
أستغفرُ اللهَ و أسأله التوبة (میں اللہ سے مغفرت چاہتا ہوں اور اس سے توبہ طلب کرتا ہوں)۔
پھر فرمایا:
کہو یا اللہ! کیوں نہ کہیں یا اللہ؟
جب یہ گناہ ہمیں یاد آگیا ہے، تو فوراً کہنا چاہیے یا اللہ!
یہ دراصل اللہ کی طرف س ایک نعمت ہے کہ بندے کو اس کے گناہ یاد دلاتا ہے،
تاکہ وہ توبہ کرے اور کہے:
خدایا! مجھے بخش دے۔


































