Fri Oct 09, 2026

سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ اسرائیل کو ایران پر ممکنہ حملے کیلئے تیار رہنے کی ہدایت ایران کے حملوں کے بعد امریکی فوج نے کویت کا اہم اڈہ خالی کر دیا بھارت پاکستان میں دہشت گردی کیلئے طالبان کی مدد کر رہا ہے: جواد اجمل شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوج بھیجنے پر غور پیوٹن کا ایران کی تاریخی اور غیر معمولی ثابت قدمی کا خیرمقدم ایران کی لبنان میں جنگ کے متاثرین کیلئے حزب اللہ کو 20 کروڑ ڈالر کی امداد ڈی جی آئی ایس پی آر کی سعودی عرب میں فوجی تعیناتی کی تصدیق فرانس میں طلبہ مظاہرین پر پولیس تشدد، تہران میں فرانسیسی سفیر کی طلبی

روزانہ کی خبریں

غزہ اور تاریخی حقائق

تحریر: محمد بشیر دولتی

کیا آپ جانتے ہیں کہ غزہ میں اتنی بلند و بالا عمارتیں کیوں بنی تھیں؟ اگر نہیں تو جان لیجئے کہ غزہ دنیا کے کمترین رقبے پر ذیادہ آبادی والے شہروں میں تیسرے نمبر پر ہے۔ کم رقبہ اور ذیادہ آبادی والے شہروں میں سنگاپور پہلا (جو در حقیقت ایک ملک اور ایک شہر بھی ہے۔) دوسرے نمبر پر چین کا ایک شہر مکاؤ اور تیسرے نمبر پر غزہ ہے۔ زیادہ آبادی اور کم رقبے کی وجہ سے یہاں بلند بالا عمارتیں ذیادہ نظر آتی تھیں جسے اسرائیلی بربریت نے اب ملبوں کے ڈھیر میں بدل دیا ہے۔

شہر غزہ کی سرحد شمال مشرق میں اکیاون (51) کلومیٹر اسرائیل کے ساتھ، جنوب میں گیارہ کلومیٹر مصر کے ساتھ، آٹھ کلومیٹر خان یونس کے ساتھ جبکہ مغرب میں چالیس کلومیٹر ساحل مدیترانہ (Mediterranean Sea) سے ملتی ہے۔ شہر غزہ تین سو پینسٹھ کلومیٹر مربع پر مشتمل خشکی کا ایسا ٹکڑا ہے جو کلہاڑی کی شکل میں غاصب اسرائیل اور مصر کے درمیان بحر مدیترانہ (Mediterranean Sea) کے کنارے موجود ہے۔

غزہ کی کل آبادی تیئیس لاکھ سے زائد ہیں۔ دیکھا جائے تو غزہ نے تاریخ میں کبھی اسرائیل کو ایک الگ ریاست کی حیثیت سے قبول نہیں کیا بلکہ خائن اور غاصب کے طور پر تاریخ میں ثبت کیا۔ غزہ 1917ء تک یہ عثمانی خلافت کا حصہ رہا، اس کے بعد اس علاقے پر برطانیہ کا غاصبانہ قبضہ ہوا۔

برطانیہ اور یورپی ممالک 1948ء میں جب غاصب اسرائیل کو زبردستی وجود میں لایا گیا تو فلسطینیوں کو زبردستی غزہ کی طرف دھکیلا گیا۔ اس زمانے میں یہ مصر کا حصہ تھا۔ تقریبآ بیس سال بعد 1967ء میں اسرائیل نے مصر، اردن اور شام کے خلاف جنگ کی تو غزہ پر پہلی مرتبہ اسرائیل کا ناجائز قبضہ ہوگیا۔ اس جنگ میں یروشلم اور مغربی کنارہ بھی اسرائیل کے جارحانہ قبضے میں چلا گیا۔

1987ء سے اسرائیل کے غاصبانہ قبضہ اور ظالمانہ اقدامات کے سبب غزہ میں انتفاضہ کا سلسلہ شروع ہوا، جو 1993ء تک زور پکڑ گیا۔ اس آزادی پسند تحریک اور مقاومت کے سبب 2015ء میں اسرائیل کو اپنا کنٹرول غزہ سے چھوڑنا پڑا تو اسرائیلی فوج کے ساتھ آٹھ ہزار یہودی جو یہاں قابض ہوگئے تھے وہ بھی یہاں سے نکل گئے یوں یہ خالص مسلمانوں کا علاقہ رہ گیا۔

غزہ سے اسرائیلی انخلاء کے چند ماہ بعد ہی فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے انتخابات منعقد کرایا گیا جس میں حماس نے بےمثال کامیابی حاصل کی، جس کے نتیجے میں غزہ سے الفتح کا خاتمہ ہوا اور حماس عوامی حمایت سے اقتدار میں آگئی۔ اس کے بعد فلسطینی اتھارٹی الفتح جس کی کمان محمود عباس کے پاس تھی اس نے دوبارہ الیکشن نہیں کرایا کہ کہیں دیگر علاقوں میں بھی حماس عوامی حمایت سے مسلط نہ ہوجائیں۔

اسرائیل و امریکہ نے جمہوری طریقے سے آئی ہوئی حماس کی حکومت کو قبول ہی نہیں کیا۔ 2007ء میں اسرائیل نے عوامی حمایت کے ذریعے حماس کے کنٹرول کے بعد غزہ کا مکمل محاصرہ کیا جو اب تک جاری ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے مطابق غزہ کو گویا کھلی جیل میں بدل دیا گیا۔

کہتے ہیں کہ شہید قاسم سلیمانی مسلم ممالک کے واحد جنرل تھے جنہوں نے دو مرتبہ غزہ کا خفیہ دورہ کیا۔ غزہ کے مقاومت پسند جوانوں کو غلیل اور پتھر سے مختلف راکٹوں تک پہنچانے میں اس جنرل اور ایران کا مضبوط ہاتھ ہے۔ شہید قاسم سلیمانی نے اپنی نگرانی میں غزہ کے بلند و بالا عمارتوں کے نیچے گاڑی تک کی گنجائش والی مضبوط سرنگیں بنوائی تھیں۔

غزہ چونکہ اسرائیل کے خلاف مقاومتی تحریک کا مرکز تھا اس لئے اسرائیل، سعودی عرب اور مصر کے ساتھ مل کر یہاں کے عوام کو مصر میں سینائے صحراء میں بسانا چاہتے تھے۔ اسرائیل کا خواب پورا ہونے سے پہلے حماس نے تاریخی آپریشن کیا۔ اس تاریخی آپریشن کے بعد ایران و عراق اور حماس و انصاراللہ کے علاوہ دیگر مسلم ممالک کی بےحسی انتہائی افسوسناک ہے۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular