
کراچی : ملک بھر کی طرح کراچی میں عشرہ محرم الحرام کی مجالس کا آغاز ہوگیا۔ پہلی مجلس سے خطاب میں علما اور ذاکرین نے واقعہ کربلا اور پیغام امام حسین علیہ السلام پر روشنی ڈالی۔ علامہ شہنشاہ حسین نقوی نے نشتر پارک میں خطاب کرتے ہوئے معارف قرآن و اہل بیتؑ پر روشنی ڈالی اور کہا کہ قرآن کریم میں عقیدہ توحید، عقیدہ نبوت اور عقیدہ امامت پر بہت سی آیات ہیں جو بنی نوع انسان کی مسلسل رہنمائی کر رہی ہیں، تشنگاہ علم و عمل استعفادہ حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ ایام عزا، ایام صبر، اُنھی کی یادوں کے ایام ہیں، زمین سے عرش تک غم حسینؑ کا موسم چھا چکا ہے۔ آپ اس مرکزی منبر حسینی سے ہمیشہ اتحاد و اتفاق امت کی بات ہی سنیں گے، جو کہ اس طالب علم کا دائمی پیغام اور موجودہ دور کی اہم ترین ضرورت بھی ہے۔ امام بارگاہ شہدائے کربلا انچولی میں خطاب کرتے ہوئے علامہ حسن ظفر نقوی نے کہا ہے کہ ماہ محرم ہر سال ہمیں نواسہ رسولؑ کی اس عظیم قر بانی کی یاد دلاتا ہے جو آپ نے حق کی سر بلندی کی خاطر کربلا کے میدان میں دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ظلم و جبر کے خلاف آپؑ کا قیام ساری انسانیت کے لئے مشعل راہ ہے، اسی لئے امام حسین علیہ اسلام کی یاد صرف مسلمان نہیں بلکہ دیگر مذاہب کے لوگ بھی مناتے ہیں۔ علامہ زکی باقری نے مسجد و امام بارگاہ شریکتہ الحسین گلستان جوہر میں خطاب کرتے ہوئے ملت کو راہ حسین علیہ السلام پر چلنے اور حسینی کردار اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ علامہ ریاض جوہری نے رضویہ سوسائٹی میں خطاب کے دوران کہا کہ محرم کا مقدس مہینہ نواسہ رسولؐ سے منسوب ہے، اس ماہ میں غم حسینؑ کو بھرپور طریقے سے منایا جائے کیونکہ خانوادہ رسولؐ اور ان کے رفقاء نے اس مہینہ میں عظیم قربانیاں پیش کیں جبکہ بوڑھوں، بچوں اور خواتین نے بھی اہم کردار ادا کیا، آج اگر اسلام زندہ ہے تو انہی مقدس ہستیوں کے طفیل میں پرچم اسلام آج بھی بلند ہے اور اس دین کو مٹانے والے آج اس زمین پر موجود نہیں لیکن حسینی کردار آج بھی مسلمانوں کی رہنمائی کررہا ہے۔ محفل مرتضیٰ پی ای سی ایچ ایس سوسائٹی میں خطاب کے دوران مولانا کمیل مہدوی نے کہا کہ محرم کے مقدس مہینے کی آمد پر امن و محبت اور رواداری کی بات کی جائے کیونکہ اسلام امن و محبت اور ایک دوسرے کے احترام کی بات کرتا ہے، مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر اس عبادت کے مہینے میں یکجہتی قائم رکھیں، یہ مقدس مہینہ نواسہ رسولؐ کی شہادت اور خانوادہ رسالتؐ کے مصائب و مشکلات کا مہینہ ہے لہٰذا ہمیں آل رسولؑ کے بتائے ہوئے اصولوں کی پیروی کرتے ہوئے اپنی اصلاح کرنا ہوگی۔ مولانا علی رضا رضوی نے امام بارگاہ شہدائے کربلا انچولی۔ علامہ عارف شاہ کاظمی نے آئی آر سی ۔علامہ نصرت بخاری نے محفل شاہ خراسان سولجر بازار میں خطاب کیا۔


































