
نیویارک: اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے کے تین پناہ گزین کیمپوں سے تینتیس ہزار سے زائد فلسطینیوں کو جبری طور پر بے دخل کیا اور انہیں واپسی سے روک رکھا ہے۔
قوام متحدہ کے انسانی حقوق دفتر کی نئی رپورٹ میں مغربی کنارے کے جنین، نور شمس اور طولکرم پناہ گزین کیمپوں کی تباہی کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2025 تک جنین کیمپ کی 52 فیصد، نور شمس کی 48 فیصد اور طولکرم کی 36 فیصد عمارتیں تباہ یا متاثر ہوچکی تھیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق اسرائیلی فورسز نے گھروں کی تلاشی، فضائی حملوں، بکتر بند بلڈوزروں اور منظم مسماریوں کے ذریعے کیمپوں کو ناقابل رہائش بنادیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جبری منتقلی کے انسانیت کے خلاف جرم کے خدشات پیدا کرتی ہے۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے کہا کہ کارروائی کا انداز اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ فلسطینیوں کو ہٹا کر مزید غیرقانونی صیہونی آبادکار بستیوں کے لیے راستہ بنایا جا رہا ہے۔


































