شکر ہے کہ مزارات کو شرک کا مرکز قرار دینے والوں نے اسکی اہمیت کو تسلیم کرلیا، پیر معصوم
لاہور (نیوز ڈیسک) جمعیت علمائے پاکستان(نیازی) کے سربراہ قائد اہلسنت پیر معصوم حسین نقوی نے حضرت عمر بن عبدالعزیز کے مزار اقدس کی بے حرمتی کی مذمت کرتے ہوئے مولانا فضل رحمان اور ان کے ہم مسلک علما کی طرف سے مزارات کی تعمیر کے مطالبے پر خوشگوار حیرت کا اظہار کیا اور اللہ کا شکر ادا کیا ہے کہ مزارات کو شرک کا مرکز قرار دینے والوں نے بھی مزارات کی اسلامی اہمیت کو تسلیم کرلیا ،انہوں نے کہا کہ کاش مولانا فضل الرحمن داعش کے ہاتھوں شام اور عراق میں انبیا علیہم السلام اور صحابہ کرام کے مزارات مسمار کرنے جبکہ طالبان کی طرف سے پاکستان میں مزارات اولیا اللہ پر خودکش حملوں کی مذمت کر دیتے مگر ان کے بیانات کہیں ریکارڈ پر نظر نہیں آرہے،کیونکہ مزارات پر حملے کرنیوالے دہشت گرد مولانا فضل رحمان ہی کے ہم مسلک تھے ،جے یو پی کے سربراہ نے افسوس کا اظہار کیا کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے مزار کی بے حرمتی پر چار ماہ بعد منظر عام پر لانے والی خبر پر جاگنے والے مذہبی رہنما رسول اللہ کی بیٹی، اہلبیت اطہار اور صحابہ کرام کے مزارات کی 1925میں بے حرمتی اور مسمار کرنے کی مذمت کر دیتے تو آج یہ حالات دیکھنے کو نہ ملتے اور نہ ہی یہ تکفیری نجدی سوچ پروان چڑھتی۔
- Home
- بین الاقوامی خبریں
- مشرق وسطی
- مزارات پر حملے کرنیوالے فضل رحمان کے ہم مسلک تھے


































