Sun Oct 04, 2026

نماز اللہ سے قریبی تعلق قائم کرنے، محبت، امید، مہربانی اور امن کا جاری چشمہ ہے، ولی امر مسلمین آر اے ایف فئیر فورڈ واقعے میں ایران کے مبینہ کردار سے متعلق برطانوی دعوی مسترد عراق سے امریکی فوج کے انخلا پر جشن اتنے میزائل ہیں کہ دشمن پر کئی سال تک حملے جاری رکھ سکتے ہیں، علی بلالی امریکا نے غیر مسلح ہونے کی تصدیق کے باوجود ایرانی بحریہ کے جہاز پر حملہ کیا، ایران عراق کی اسلامی مزاحمت کا ہتھیار ڈالنے سے انکار، امریکی انخلا کو مزاحمت کی کامیابی قرار دے دیا پاکستان کے افغانستان میں فضائی حملے، 22 شدت پسند ہلاک محسن رضائی کی عرب امارات کو وارننگ، نیتن یاہو کی خفیہ میزبانی پر سخت ردعمل عراق سے 23 سال بعد امریکی افواج کا مکمل انخلا آبنائے ہرمز میں 3 جہازوں کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا افغانستان کسی بھی ملک میں بد امنی یا عدم استحکام نہیں چاہتا، ترجمان جنگ میں ناکامی کے بعد امریکا اور اسرائیل اب ایران میں اندورنی تقسیم پیدا کرنا چاہتے ہیں: مسعود پزشکیاں پاسدارانِ انقلاب کا امریکی عوام کے نام کھلا خط، ٹرمپ پالیسیوں کی مخالفت کا مطالبہ امریکا نے ایران اور روسی اداروں پر نئی پابندیاں عائد کر دیں ایران امریکا جنگ: یورپی یونین بھی شدید متاثر، فیول امپورٹ بل 100 ارب یورو سے بڑھ گیا

روزانہ کی خبریں

اسپین میں 87 سالہ خاتون کرایہ دار کی بے دخلی، ہزاروں افراد سڑکوں پر آگئے

میڈرڈ: اسپین کے شہر میڈرڈ میں 87 سالہ خاتون کرایہ دار کو بے دخل کرنے پر ہزاروں افراد سڑکوں پر آگئے اور کرایہ داروں کے تحفظ، دھوکہ دہی کے خلاف قوانین بنائے جانے اور متبادل رہائش دیے بغیر بے دخلی پر پابندی کا مطالبہ کیا۔
اس احتجاج کا آغاز اس وقت ہوا جب ایک 87 سالہ خاتون کو میڈرڈ میں واقع ان کے فلیٹ سے نکال دیا گیا تھا جہاں وہ کئی دہائیوں سے رہائش پذیر تھیں، وہ 1956 سے اس مکان میں رہائش پذیر تھیں۔ احتجاج میں شریک ایک 55 سالہ نرس ڈورا گارشیا کا کہنا تھا کہ ہم یہاں اس لیے موجود ہیں کیونکہ رہائش کا مسئلہ پورے معاشرے، ہر عمر اور طبقے کے لوگوں کو متاثر کر رہا ہے اور ہم اس صورت حال کے مزید متحمل نہیں ہو سکتے، رہائش ایک بنیادی حق ہے جو ہمیں میسر نہیں ہے۔
شہر کے پوش علاقے ریٹیرو میں اسٹریچر پر گھر سے باہر لائی جانے والی 87 سالہ ماریکارمن اباسکل کو ایمبولینس میں منتقل کیا گیا تو اس وقت لوگوں نے ان کا استقبال کیا اور نعرے لگائے۔
اسپین کے مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اباسکل کے والد نے یہ مکان 1956 میں کرائے پر لیا تھا اور والدین کی وفات کے بعد وہ خود بھی کرائے دار کے طور پر وہاں رہائش پذیر رہیں۔میڈرڈ ٹیننٹس یونین جس نے احتجاج کا اہتمام کیا تھا، کا کہنا ہے کہ 2018 میں اس عمارت کو کسی اور مالک نے خرید لیا، ان کو اس موقع پر یہ فلیٹ خریدنے کا موقع دیا گیا تھا لیکن وہ اس کی قیمت ادا نہیں کر سکی تھیں۔
نئے مالک نے کرایہ 500 یورو سے بڑھا کر دو ہزار چھ سو 50 یورو کر دیا تاہم بعدازں کم کر کے ایک ہزار چھ سو 50 کیا گیا تاہم یونین میں شامل افراد کا کہنا تھا کہ اباسکل اپنی پنشن کی رقم سے یہ رقم بھی ادا نہیں کر پا رہی تھیں۔
ان کو بے دخل کیے جانے کی قبل ازیں ہونے والی تین کوششوں کو عدالت نے روک دیا تھا، میڈیا کی جانب سے اس معاملے کی بھرپور کوریج کے بعد وہ خاتون اسپین میں بڑھتے رہائشی بحران کی علامت بن گئیں۔ مظاہرے میں شریک 43 سالہ اسکول ٹیچر سیمون دے لا ریوا کا کہنا تھا کہ یہ صورت حال انتہائی افسوسناک ہے، ہم کافی عرصے سے اس کا سامنا کر رہے ہیں، سرمایہ کاری فنڈز کے ذریعے گھر خریدے جا رہے ہیں اور وہ لوگوں کی پہنچ سے دور ہو رہے ہیں جن کو گھروں سے نکال دیا جاتا ہے جن میں بزرگ خاتون بھی شامل ہیں۔ مارچ کے اختتام پر مظاہرین میڈرڈ کے پوئرتا ڈیل سول چوک میں بیٹھ گئے جس سے لگ رہا تھا کہ وہ وہاں لمبا قیام کرنا چاہتے ہیں کچھ لوگوں نے خیمے بھی لگا لیے۔
یورپ کی چوتھی بڑی معیشت ہونے کے باوجود اسپین میں لوگ رہائش خریدنے یا کرائے لینے کی استطاعت کھو رہے ہیں، آمدنی میں اتنا اضافہ نہیں ہوا جتنا رہائشی اخراجات میں ہوا ہے، شہر میں سیاحت اور تارکین کی وجہ سے محدود رہائشی سہولتوں پر بہت دباؤ بڑھا ہے۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular