
صنعا: انصار اللہ یمن کے سربراہ سید الحوثی نے کہا ہے کہ دشمن اب اس جگہ میں بھی محفوظ نہیں ہے جسے وہ تل ابیب کہتا ہے اور یہ خطرہ جاری رہے گا جو ایک نئی صورت حال ہے۔ الحدیدہ پر حملہ کرکے صیہونی حکومت نے اپنے لوگوں کو یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ اس نے ایک بڑی کامیابی حاصل کی ہے اور یمن کو تکلیف دہ ضرب لگائی ہے۔ سید الحوثی نے زور دیا کہ دشمن ایسے اہداف کا انتخاب کرتا ہے جس سے یمن کی معیشت، اس ملک کی عزیز قوم اور ان کے ذریعہ معاش کو نقصان پہنچایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ صیہونی حکومت نے الحدیدہ میں تیل اور بجلی کی کمپنی کے ٹینکوں کو براہ راست نشانہ بنایا اور امریکہ نے یمنی قوم کے خلاف اقتصادی اور فوجی جنگ شروع کر رکھی ہے اور ہماری قوم کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے لئے اپنے تمام وسائل اور ایجنٹوں کو استعمال کر رہا ہے۔ انصار اللہ یمن کے رہنما نے واضح کیا کہ دشمن غزہ میں فلسطینی قوم پر پوری طرح سے تسلط قائم کرنا چاہتا تھا اور اسی خیال پر اپنی حکمت عملی کی بنیاد رکھی تھی لیکن سب سے پہلی چیز جس نے غاصب صیہونی حکومت کے اس خیال خام کو متاثر کیا وہ لبنان میں حمایتی محاذ تھا جس کا بہت اثر ہوا۔


































