
اسلام آباد : سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہمیں الیکشن ہرانے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا گیا۔پی ٹی آئی کور کمیٹی کے اجلاس کے بعد خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود حکومت نے سرکاری مشینری الیکشن میں استعمال کی۔ ہر جگہ لوگوں کو پولیس کے ذریعے ڈرایا گیا۔مجھے سب سے زیادہ افسوس چیف الیکشن کمشنر پر ہوا۔ انہوں نے 40 لاکھ لوگوں کو ووٹرز لسٹوں سے مردہ قرار دے کر خارج کیا۔ چیف الیکشن کمشنر نے ن لیگ کو جتانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ اس الیکشن کمیشن پر ہمارا کوئی اعتماد نہیں۔ سینیٹ انتخابات میں سپریم کورٹ کی اجازت کے باوجود انہوں نے ووٹ کو قابل شناخت نہیں بنایا۔عمران خان نے مزید کہا کہ سینیٹ میں ووٹوں کی خریدو فروخت پر الیکشن کمیشن نے کچھ نہیں کیا اس لیے اس الیکشن میں بھی پیسہ استعمال ہوا۔عمران خان نے چیف الیکشن کمشنر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کا الیکشن کمشنر پر کوئی اعتماد نہیں۔ ’ہمارا ان پر اعتماد نہیں لیکن یہ ہم پر مسلط ہو کر بیٹھا ہوا ہے اور ن لیگ سےملا ہوا ہے۔الیکشن کمیشن نے ہر حربہ ہمیں ہرانے کے لیے استعمال کیا۔ ان سب حربوں کے باوجود لوگوں نے بڑی تعداد میں ووٹ کے لیے باہر نکل کر ہمیں جتایا۔ان کا کہنا تھا کہ اگر آئندہ الیکشن پنجاب کے بلدیاتی انتخابات کی طرح ہوئے تو بحران بڑھے گا۔ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد راستہ صاف اور شفاف انتخابات ہیں۔ ملک کے معاشی بحران کے حل کے لیے سیاسی استحکام ضروری ہے اور استحکام کے لیے شفاف الیکشن ضروری ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت کو ختم کرنے کے لیے ایک مصنوعی سیاسی بحران پیدا کیا گیا۔
اسلام آباد : سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہمیں الیکشن ہرانے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا گیا۔پی ٹی آئی کور کمیٹی کے اجلاس کے بعد خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود حکومت نے سرکاری مشینری الیکشن میں استعمال کی۔ ہر جگہ لوگوں کو پولیس کے ذریعے ڈرایا گیا۔مجھے سب سے زیادہ افسوس چیف الیکشن کمشنر پر ہوا۔ انہوں نے 40 لاکھ لوگوں کو ووٹرز لسٹوں سے مردہ قرار دے کر خارج کیا۔ چیف الیکشن کمشنر نے ن لیگ کو جتانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ اس الیکشن کمیشن پر ہمارا کوئی اعتماد نہیں۔ سینیٹ انتخابات میں سپریم کورٹ کی اجازت کے باوجود انہوں نے ووٹ کو قابل شناخت نہیں بنایا۔عمران خان نے مزید کہا کہ سینیٹ میں ووٹوں کی خریدو فروخت پر الیکشن کمیشن نے کچھ نہیں کیا اس لیے اس الیکشن میں بھی پیسہ استعمال ہوا۔عمران خان نے چیف الیکشن کمشنر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کا الیکشن کمشنر پر کوئی اعتماد نہیں۔ ’ہمارا ان پر اعتماد نہیں لیکن یہ ہم پر مسلط ہو کر بیٹھا ہوا ہے اور ن لیگ سےملا ہوا ہے۔الیکشن کمیشن نے ہر حربہ ہمیں ہرانے کے لیے استعمال کیا۔ ان سب حربوں کے باوجود لوگوں نے بڑی تعداد میں ووٹ کے لیے باہر نکل کر ہمیں جتایا۔ان کا کہنا تھا کہ اگر آئندہ الیکشن پنجاب کے بلدیاتی انتخابات کی طرح ہوئے تو بحران بڑھے گا۔ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد راستہ صاف اور شفاف انتخابات ہیں۔ ملک کے معاشی بحران کے حل کے لیے سیاسی استحکام ضروری ہے اور استحکام کے لیے شفاف الیکشن ضروری ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت کو ختم کرنے کے لیے ایک مصنوعی سیاسی بحران پیدا کیا گیا۔


































