
دوحہ: اقوامِ متحدہ کی میزبانی میں دوحہ کانفرنس ختم ہوگئی۔ طالبان حکومت کوئی مراعات حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ وائس آف امریکا کے مطابق کانفرنس میں دو درجن ممالک کے خصوصی مندوبین اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ ان میں سے چند ایک ہی نے طالبان کے وفد سے ملاقات کی۔ طالبان وفد نے مذاکرات میں نہ تو افغانستان میں کسی قسم کی اصلاحات کی یقین دہانی کرائی اور نہ ہی وہ بین الاقوامی برادری سے کسی قسم کی مراعات کے حصول میں کامیاب ہوسکے۔ مذاکرات کے اختتام پر پریس کانفرنس میں اقوامِ متحدہ کی انڈر سیکریٹری روزمیری ڈی کارلوس نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کے ایک بڑے حصے اور افغانستان میں برسرِ اقتدار حکمرانوں کو تفصیل سے مباحثے کا پہلی بار موقع ملا ہے۔ مذاکرات انتہائی دوستانہ ماحول میں ہوئے۔ تاہم انہوں نے طالبان حکومت کو اس وقت تک تسلیم کرنے کے امکان کو مسترد کردیا جب تک وہ خواتین کی تعلیم سمیت ان پر عائد دیگر پابندیاں ختم نہیں کر دیتے۔


































