
واشنگٹن: امریکا کے نومتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عرب امریکن سے بھرپور حمایت ملنے کے باوجود انہیں اپنی نئی حکومت میں ابھی تک کوئی کردار نہیں دیا ہے۔ بعض عرب امریکی ووٹروں نے ری پبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت اس امید پر کی تھی کہ اگلی انتظامیہ میں ان کے ممتاز حامیوں کو اہم عہدے ملیں گے۔ لیکن اب تک جتنے بھی عہدیداروں کا اعلان کیا گیا ہے ان میں ایک بھی عرب امریکی شامل نہیں ہے۔ ایک لبنانی تاجر اور ٹرمپ کی بیٹی ٹفنی کے سسر مساد بولوس نے عرب امریکی کمیونٹی کو ٹرمپ کی حمایت کی کوششوں کی قیادت کی تھی۔ انہوں نے مشی گن اور بڑے عرب آبادی والے دیگر علاقوں میں درجنوں میٹنگیں منعقد کیں۔ کچھ سیشنز میں نیشنل انٹیلی جنس کے سابق قائم مقام ڈائریکٹررچرڈ گرینل کو نمایاں کیا گیا۔ اے پی کی رپورٹ کے مطابق اتنی بھرپور کوششوں کے باوجود ٹرمپ نے نہ تو بولوس اور نہ ہی گرینل کو لفٹ کرائی ہے۔ حالانکہ روبیو کو منتخب کیے جانے سے پہلے گرینل کو ممکنہ سیکریٹری آف اسٹیٹ سمجھا جارہا تھا۔


































