
تل ابیب : اسرائیل نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ سے زمینی لڑائی میں شکست اور بھاری جانی نقصان پر فوج کے کئی بریگیڈ واپس بلا لیے ہیں۔ اسرائیلی روزنامہ یدیوت اہرونوٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ فوج واپس بلانے کا فیصلہ ایک معاہدے تک پہنچنے کی کوششوں میں پیش رفت کے تناظر میں کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جنگ بندی کیلئے بات چیت میں پیش رفت ہوئی ہے مذاکرات میں شریک عہدیداروں کو توقع ہے کہ ڈیڑھ سے دو ہفتوں میں جنگ بندی کا معاہدہ طے پاسکتا ہے۔ معاہدے کے مسودہ میں جنگ بندی کے نفاذ میں ناکامی کی صورت میں جنوبی لبنان میں اسرائیل کو لڑائی جاری رکھنے کی ضمانت دی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق زمینی کارروائیاں مزید چند ہفتوں تک جاری رہنے کی توقع ہے جبکہ اسرائیلی فوج سیاسی قیادت کے فیصلے کا انتظار کر رہی ہے۔
اسرائیلی اخبار کے دعوے کے برعکس اسرائیلی فوج کو جنوبی لبنان کے محاذ پر حزیمت کا سامنا ہے۔ پچاس ہزار فوجی۔ جنگی سازوسامان اور بھرپور فضائی مدد کے باوجود صیہونی فوج لبنان میں ایک دیہات پر بھی قبضہ نہیں کرسکی اور اسے لاشوں اور زخمیوں کے ساتھ پیچھے ہٹنا پڑا ہے۔ تسلسل سے جاری بمباری کے باوجود حزب اللہ کے مجاہدین اسرائیل پر روزانہ راکٹ داغ رہے ہیں۔


































