
تحریر: احسان احمدی
لبنان کے ایوان صدر نے ایک بیان جاری کیا ہے، جس میں صدر جوزف عون اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو کی تصدیق کی گئی ہے۔
ایکسویس ویب سائٹ، جو اسرائیلی انٹیلی جنس ذرائع کے قریب سمجھی جاتی ہے، نے اطلاع دی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنانی صدر جوزف عون کو فون کیا ہے۔ اس میڈیا آؤٹ لیٹ کے مطابق ٹرمپ نے فون کال میں اسرائیل کے ساتھ حالیہ فریم ورک معاہدے پر دستخط کرنے پر لبنانی فریق کو مبارکباد دی۔ لبنانی بیان میں کہا گیا ہے کہ عون نے امید ظاہر کی ہے کہ واشنگٹن جنوبی لبنان کے مقبوضہ علاقوں سے نکلنے کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالے گا۔ تاہم امریکی محکمہ خارجہ کا کل رات جو بیان بیروت اور تل ابیب کے درمیان طے پانے والے فریم ورک معاہدے پر دستخط کے فوراً بعد جاری ہوا، اس میں اشارہ دیا گیا کہ وائٹ ہاؤس نے لبنان میں ہر قسم کی جارحیت جاری رکھنے کے لیے اسرائیل کو کھلا چھوڑ دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ بیان بینجمن نیتن یاہو کے بیانات سے پوری طرح مطابقت رکھتا ہے اور صیہونی حکومت کو ایران کے ساتھ مفاہمت کے پہلے پیراگراف کی خلاف ورزی کرنے کے لیے آزاد چھوڑ رہا ہے۔
متن کے کچھ حصے میں لکھا ہے: "یہ معاہدہ لبنان کی خودمختاری کی بحالی، حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے، اسرائیلی انفراسٹرکچر کو ختم کرنے اور اسرائیل کو اپنے شہریوں کو لاحق خطرے کے خاتمے کے بعد اپنی سرحدوں پر واپس جانے کی اجازت دیتا ہے۔ اس سے قبل نیتن یاہو نے امریکی بیانیے سے مطابقت رکھنے والے بیانات میں کہا تھا کہ لبنانی سرزمین سے مکمل انخلاء تب ہی ہوگا جب "شمال میں خطرہ ختم ہو جائے گا” اور حزب اللہ کو مکمل طور پر غیر مسلح کر دیا جائے گا۔ یہ بیان امریکہ ایران مفاہمت کی یادداشت کے پہلے پیراگراف کی صریح خلاف ورزی ہے، جو واشنگٹن کو لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ بندی برقرار رکھنے کا پابند کرتا ہے۔ یاد رہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان فریم ورک کے معاہدے پر جمعہ کی شب واشنگٹن میں دستخط ہوئے، جبکہ اسرائیلی حکومت اب بھی لبنان کے پانچ فیصد حصے پر قابض ہے اور ملک پر بمباری جاری رکھے ہوئے ہے۔
ادھر لبنان کی اسلامی مزاحمتی تحریک حزب اللہ نے صیہونی حکومت اور لبنان کی حکومت کے دومیان ہونے والے مبینہ معاہدے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ لبنان کی پارلیمنٹ میں وفاداری بلاک کے رکن حسن فضل اللہ نے کہا ہے کہ واشنگٹن میں ہونے والا معاہدہ اسلام آباد مفاہمت کو ناکام بنانے کی کوشش ہے اور مزاحمت کی رضامندی کے بغیر کوئی بھی فیصلہ کامیاب نہیں ہوسکتا۔ حسن فضل اللہ نے کہا کہ موجودہ لبنانی حکومت کو عوامی و قانونی حمایت حاصل نہیں، اس لیے وہ ملک پر اپنی مرضی مسلط نہیں کرسکتی۔ انہوں نے کہا کہ مزاحمت اپنے ہتھیار نہیں چھوڑے گی اور کسی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرے گی، جو غاصب اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات یا تعلقات کی راہ ہموار کرے۔ فضل اللہ نے مزید کہا کہ جب تک اسرائیلی افواج لبنان سے مکمل طور پر واپس نہیں جاتیں، کسی مستقل معاہدے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت امریکی حمایت سے اس معاہدے کو زبردستی نافذ کرنے کی کوشش کرے گی تو ملک خانہ جنگی کی طرف جا سکتا ہے۔
لبنان کی پارلیمنٹ میں وفاداری بلاک کے رکن امین شری نے بھی اسرائیل کے ساتھ لبنانی حکومت کے براہ راست مذاکرات پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حزب اللہ کا اسرائیل سے براہ راست بات چیت کو مسترد کرنے کا مؤقف آج بھی برقرار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل لبنان کے اندر خانہ جنگی اور داخلی اختلافات کو ہوا دے کر وہ مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے، جن میں اسے گزشتہ دو جنگوں کے دوران ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے مطابق اسرائیل مسلسل لبنان پر مزید رعایتیں دینے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔ دوسری جانب لبنان کے مفتی شیخ قبلان نے کہا ہے کہ جوزف عون کی حکومت نے بیروت کی خود مختاری کی کنجی واشنگٹن اور تل ابیب کے حوالے کر دی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاہدہ لبنان کے قومی مفادات اور خود مختاری کے خلاف ہے، اس لیے اسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔


































