
ایم ڈبلیو ایم کے وفد نے وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری سے ملاقات کی اور ان کو نصاب پر ملت جعفریہ کے تحفظات سے آگاہ کیا۔ ایم ڈبلیو ایم کے وفد نے کہا کہ شیعہ طلبہ کے لیے سابقہ علیحدہ نصاب بحال کیا جائے۔ ایم ڈبلیو ایم کے وفد نے وفاقی وزیر کو بتایا کہ ہر مکتب فکر کے عقائد اور فقہ و حدیث کا بڑا حصہ ایک دوسرے سے مختلف ہے لہذا ہر مکتب فکر کے بچوں کو ان کے اپنے عقائد اور فقہ و حدیث کے مطابق پڑھنے کا حق دیا جائے۔ ایم ڈبلیو ایم کے وفد نے کہا کہ متنازعہ نصاب کی وجہ سے ملت جعفریہ میں عقائد کے عدم تحفظ کا احساس جنم لے رہا ہے جس کو فوری طور پر دور کیا جائے۔ وفد نے دینیات کے علاہ دیگر نصابی اور درسی کتب سے بھی دل آزار مواد نکالنے اور نظام تعلیم کو پاکستان کی نظریاتی بنیاد سے ہم آہنگ کرنے کا مطالبہ کیا۔ وزیر مذہبی امور نے ایم ڈبلیو ایم کے وفد کو یقین دہانی کروائی کہ نصاب تعلیم کے معاملے پر تمام مکاتب فکر کے حقوق کا خیال رکھا جائے گا۔ وزیر مذہبی امور نے کہا نظام تعلیم کو ملک کی نظریاتی اساس سے ہم آہنگ کرنا ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے اس کی متعلقہ محکموں کو از سر نو تاکید کی جائے گی۔ وزیر مذہبی امور نے کہا وہ ملت جعفریہ کے تحفظات پر وزارت تعلیم، متعلقہ اداروں اور تمام شیعہ اسٹیک ہولڈرز کا جلد ایک مشترکہ اجلاس بلائیں گے اور تحفظات دور کرنے کا میکانزم بنایا جائے گا۔ ایم ڈبلیو ایم کے وفد میں مرکزی سیکریٹری سیاسیات سید اسد عباس نقوی، مرکزی سیکریٹری نوجوانان علامہ اعجاز حسین، اصلاح نصاب کمیٹی کے رکن سید ابنِ حسن بخاری، صوبائی ڈپٹی سیکریٹری گلگت بلتستان علامہ نئیر مصطفوی اور علامہ ضیغم عباس شامل تھے۔


































