
کراچی : سندھ ہائیکورٹ نے دعا زہرا اغوا کیس کے ملزمان ظہیر احمد ،علی حسن، بلال احمد اور یو ٹیوبر زنیرا ماہم کو 11 اگست کیلئے توہین عدالت کے نوٹس جاری کردیئے۔ دعا کے والد مہدی علی کاظمی نے درخواست دائر کی تھی کہ زنیرا ماہم نے سوشل میڈیا پر ویڈیو ٹاک کرتے ہوئے جسٹس اقبال کلہوڑو سے متعلق نا مناسب باتیں کی جس کی بلال احمد نے تائید کی۔ زنیرا ماہم دعا زہرا کے انٹرویوز کرتی رہی ہیں۔ اور کم عمر مغویہ کو بالغ قرار دیتی رہی۔ عدالت سے استدعا ہے ظہیر احمد ،زنیرا ماہم اور دیگر کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔ پی ٹی اے سے زنیرا ماہم کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کرنے کی درخواست کی جاچکی ہے۔
سندھ ہائی کورٹ نے ظہیر اور اہل خانہ کے شناختی کارڈز اور اکاؤنٹس سیل کرنے حکم واپس لیتے ہوئے کہا دعا زہرا بازیاب ہوچکی،اب اکاؤنٹس اور شناختی کارڈز سیل کرنے کا کوئی جواز نہیں۔


































