
تل ابیب : اسرائیل کے زیرِقبضہ وادی گولان میں فٹ بال گراؤنڈ پر راکٹ حملے کے بعد حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے بادل منڈلانے لگے۔ لبنان سے داغا گیا راکٹ مجدل شمس کے الدرزیہ گاؤں میں فٹ بال گراؤنڈ میں گرنے سے 12 اسرائیلی ہلاک اور تیس زخمی ہوگئے تھے۔ جس کے بعد اسرائیلی فوج نے لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر شدید حملے کئے۔ سرحدی علاقے طائر سمیت کئی دیہات کو بمباری کا نشانہ بنایا گیا۔ طائر میں کئی مقامات پر آگ بھڑک اٹھی۔ صیہونی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ حزب اللہ کو اس حملے کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔ حزب اللہ نے گولان حملے میں ملوث ہونے کی سختی سے تردید کرتے ہوئے اقوام متحدہ کو بتایا ہے کہ یہ واقعہ آئرن ڈوم سے داغے گئے اسرائیلی انٹرسیپٹر میزائل گرنے کے سبب پیش آیا۔ اقوام متحدہ نے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے لبنان میں کوئی بھی نئی فوجی مہم جوئی خطے میں عدم استحکام، عدم تحفظ اور جنگ کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔


































