
خصوصی رپورٹ:
حشد الشعبی کے چار گروہوں کی جانب سے عراقی مسلح افواج کی کمان کے ساتھ مکمل انضمام کے رجحان کو خطے میں مزاحمت مخالف میڈیا نے اپنے پروپیگنڈے کا موضوع بنا لیا ہے، جبکہ یہ میڈیا درحقیقت لفظوں کے کھیل کے ذریعے فرضی کامیابیاں دکھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ مزاحمت مخالف عرب میڈیا نے عراقی سپریم جوڈیشل کونسل کے سربراہ فائق زیدان کے بیانات کو بہانہ بنا کر الحشد الشعبی کے خلاف نئی فضا سازی شروع کر دی ہے اور الحشد کے چار گروہوں کی جانب سے عراقی مسلح افواج کی مکمل کمان میں ضم ہونے کی خواہش کو ان عوامی فورسز کی جانب سے ہتھیار ڈالنے کی آمادگی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
یہ سطحی تجزیے اگر مزاحمت سے دشمنی کا نتیجہ نہ بھی ہوں تو کم از کم عراقی معاملات سے ناواقفیت اور عدم آگاہی کی علامت ضرور ہیں، کیونکہ امریکی-صہیونی بیانیے کے برخلاف، «عصائب اہل الحق»، «کتائب امام علی»، «کتائب سید الشہداء» اور «کتائب انصاراللہ الاوفیاء» کے ہتھیار حکومت کے حوالے کرنے کا دعویٰ دراصل امریکی دباؤ کا نتیجہ نہیں بلکہ عراق کی اندرونی سیاسی حرکیات کی پیداوار ہے۔ واضح رہے کہ «کتائب امام علی»، «کتائب سید الشہداء» اور «کتائب انصاراللہ الاوفیاء» گزشتہ سال بھی یہ اعلان کر چکے تھے کہ وہ عراقی مسلح افواج کی کمان کے تحت آنے کے لیے تیار ہیں، جو زیادہ تر ان گروہوں کے اندرونی اسباب اور مکمل انضمام کی خواہش کا نتیجہ تھا۔
مزید برآں، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ «عصائب اہل الحق» کا ان تین گروہوں کے ساتھ شامل ہونا بھی بنیادی طور پر اس سیاسی کامیابی کا نتیجہ ہے جو اس گروہ کی سیاسی شاخ «حرکت الصادقون» نے گزشتہ ماہ ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں حاصل کی۔ قیس الخزعلی کی قیادت میں حرکت الصادقون نے حالیہ انتخابات میں 25 نشستیں حاصل کر کے خود کو نمایاں فاتحین میں شامل کر لیا ہے، اور کابینہ میں مؤثر شرکت کے منصوبے کے پیش نظر اس نے عسکری کردار کے مقابلے میں سیاسی موجودگی کو ترجیح دی ہے۔ یہ تمام تر پیش رفت عراقی حکام کے خلاف امریکی عہدیداروں کی مسلسل دھمکیوں سے کوئی تعلق نہیں رکھتی۔
کیونکہ اگر امریکی دباؤ واقعی مؤثر ہوتا تو الحشد الشعبی کے بڑے گروہ جیسے «کتائب حزب اللہ» اور «حرکت النجباء» تمام غیر ملکی افواج، بالخصوص امریکی قیادت میں اتحادی افواج اور ترک فوج کے عراق سے انخلا تک مکمل عسکری انضمام سے انکار نہ کرتے۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ العربیہ اور اسکائی نیوز جیسے عربی زبان کے ذرائع ابلاغ، جو درحقیقت عربی زبان میں تل ابیب کا ترجمان سمجھے جاتے ہیں، ان چار گروہوں کے فیصلے کو طوفان الاقصیٰ کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ بغداد حکومت کی خواہش پر ہی ان گروہوں نے جنگ میں فعال کردار ادا کرنے سے گریز کیا تھا۔
سب سے اہم نکتہ عراق کی مرجعیت کا وہ مؤقف ہے جو مزاحمتی گروہوں کے ریاست کے ساتھ انضمام اور یکجائی کی حمایت کرتا ہے۔ اسی طرح، سپریم جوڈیشل کونسل کے سربراہ موفق زیدان کی جانب سے الحشد کے چار گروہوں کے فیصلے کا اعلان اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ اقدام وزیر اعظم سودانی کی حکومت کے فریم ورک سے باہر نہیں ہے۔ آخر میں یہ بات نہایت اہم ہے کہ الحشد الشعبی کی فورسز 2019 میں عراقی پارلیمنٹ سے منظور شدہ قانون کے تحت پہلے ہی ملک کی مسلح افواج کا حصہ ہیں، لہٰذا صہیونی ہم نوا میڈیا کی جانب سے خلع سلاح کو اپنی کامیابی کے طور پر پیش کرنا دراصل عراق کی مسلح افواج کے اندر ساختی تبدیلیوں کو مسخ شدہ انداز میں بیان کرنے کے مترادف ہے۔


































