
ڈھاکا : بنگلہ دیش کے آئینی اصلاحاتی کمیشن نے جمہوریت کے تحفظ کے لیے فسطائیت کو ختم کرنے کا عزم کیا ہے۔ فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق آئینی اصلاحاتی کمیشن کو اکتیس دسمبر تک عبوری حکومت کو اپنی سفارشات پیش کرنی ہوں گی۔ کمیشن کے سربراہ علی ریاض نے کہا کہ اس کا مقصد ایک ایسا آئین تیار کرنا تھا جو بنگلہ دیشیوں کی امنگوں کی عکاسی کرتا ہو۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ آئین کے تحت وزیر اعظم کے پاس بے پناہ طاقت ہے اور اختیارات کی یہ مرکزیت فاشزم کی راہ ہموار کرتی ہے۔ طاقت میں توازن کا فقدان فاشزم کا ذریعہ ہے۔ کمیشن کے سربراہ نے کہا کہ عبوری حکومت تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ تجاویز پر تبادلہ خیال کرے گی اور اپنی سفارشات کمیشن کو بھیجے گی اور بات چیت کے بعد حتمی رائے قائم کی جائے گی۔ اصلاحاتی عمل میں آئینی ماہرین، وکلا اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ حکومت اور سیاسی جماعتوں کے درمیان بات چیت کے دور شامل ہوں گے۔


































