
محمد رمضان اور حسین موسیٰ کو 2014میں پولیس اہلکار کی ہلاکت کے الزام میں پکڑا گیا، دونوں سے تشدد اور بجلی کے جھٹکے دے کر اعتراف جرم کرایا گیا
عدالت نے سزائے موت سنائی،اپیل کورٹ کے بعد اعلیٰ کرمنل کورٹ نے بھی فیصلہ برقرار رکھا، فیصلہ آل خلیفہ کی کمزوری کی علامت ہے،جمعیت الوفاق
مناما(نیوز ڈیسک)بحرین میں نام نہاد عدالت نے چھ سال سے قید دو شیعہ نوجوانوں کی سزائے موت کی توثیق کردی، ہوٹل ورکرمحمد رمضان اور ائرپورٹ سیکیورٹی اہلکار حسین موسیٰ کو 2014میں بم دھماکے میں پولیس اہلکار کی ہلاکت کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا، جنہیں تشدد اور بجلی کے جھٹکے دے کر اعتراف جرم کرایا گیا،حکومتی ڈاکٹر نے بھی دونوں پر تشدد کا اعتراف کیا،اس کے باوجود نام نہاد عدالت نے دونوں کی سزائے موت کی توثیق کردی،دونوں کو عدالت نے 29دسمبر 2014کو سزائے موت سنائی تھی،ملک کی اعلی کرمنل کورٹ نے 27مارچ 2015کو دونوں جوانوں کی اپیل مسترد کرتے ہوئے سزائے موت کو برقرار رکھااور 16نومبر 2015کو عدالت نے اپنے فیصلے کی توثیق کردی،اسی مقدمے میں مزید دس افراد کو عمر قید سے لیکر چھ سال تک قید کی سزا سنائی گئی تھی ان کی سزا کی بھی عدالت نے توثیق کردی،مارچ 2018میں خصوصی تحققیاتی یونٹ نے وزارت داخلہ کو رپورٹ بھیجی کہ ملزمان سے تشدد کے بعد اعترافی بیان لیا گیا ہے،فیصلے پر نظر ثانی کی جائے،جس پر عدالت نے اسی سال نومبر میں سزائے موت معطل کرکے اعلیٰ کرمنل کورٹ آف اپیل کو نئے ججز کی سربراہی میں کیس کا ازسرنو جائزہ لینے کا حکم دیااور اب عدالت نے فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی ہے جمعیت الوفاق نے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ آل خلیفہ کی کمزوری کی علامت ہے،بین الاقوامی اداروں کو بحرین میں انسانی حقوق کی پامالی کے مقابلے میں اپنی ذمہ داریوں پر عمل کرنا چاہئے۔


































