
خطے میں تمام امریکی فوجی اڈے، بحری بیڑے اور فوجی عادلانہ قصاص ہیں، فوجیوں کے تابوت پہنچیں گے تو ٹرمپ کو سمجھ آئے گی کہ اس نے کیا کام انجام دیا ہے
شہادت کا جواب نہ دیا تو مزاحمتی محاذ، مسئلہ فلسطین اور پورے خطے کیلئے خطرناک ثابت ہوگا،امریکی خطے سے گئے تو صہیونی بھی بھاگ کھڑے ہوں گے
بیروت (نیوز ڈیسک) حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے کہا ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی اور ابومہدی کے خون کا قصاص خطے سے تمام امریکی فورسز کا انخلا ہے اور ا شا اللہ یہ عنقریب ہو کر رہے گا، جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کا انتقام لینا ہمارا کام ہے اور ہم ان کا منصفانہ قصاص لے کر رہیں گے اور خطے سے امریکا کو نکال باہر کریں گے، خطے میں جاری استقامت کو محدود کرنے کی امریکی کوششیں بے نتیجہ رہیں، جنرل قاسم سلیمانی اور ابومہدی المہندس کی یاد میں تعزیتی جلسے سے خطاب میں حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے کہاکہ ڈونلڈ ٹرمپ کا سر، جنرل قاسم سلیمانی کی جوتیوں کے برابر بھی نہیں، اگر امریکا نے کسی ایرانی شخصیت یا ایرانی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہوتا تو ہم کہتے کہ یہ معاملہ ایران کیساتھ مربوط ہے لیکن یہاں بات قاسم سلیمانی کی ہے، قاسم سلیمانی کا تعلق صرف ایران سے نہیں، قاسم سلیمانی یعنی ایران، لبنان، شام، افغانستان، یعنی تمام کی تمام امتِ مسلمہ، حسن نصراللہ نے کہا کہ ایران جانتا ہے کہ وہ کیسے قاسم سلیمانی کی شہادت کا جواب دیگا لیکن یہ بات ہمارے کندھوں پر موجود ذمہ داری کو کم نہیں کرتی،ایران نے 40 سال جن کی حمایت کی، ان سے کبھی کچھ طلب نہیں کیا لہذا وہ خود فیصلہ کر لیں کہ کس طرح انتقام لینا ہے، کیونکہ ایران اپنے عظیم ترین افتخار اور سب سے بڑے جنرل کو کھو دینے پر سوگ کی حالت میں ہے،انہوں نے عادلانہ قصاص کے بارے میں کہا کہ خطے میں موجود امریکا کے تمامتر فوجی اڈے، بحری بیڑے اور فوجی اس قتل کا عادلانہ قصاص ہیں کیونکہ یہ امریکی فوج ہی ہے جس نے ان شہدا کو قتل کیا ہے لہذا امریکی فوج کو ہی اس کا تاوان بھی ادا کرنا ہے،اگر جنرل قاسم سلیمانی اور ابومھدی المھندس کے قتل کا انتقام نہ لیا تو یہ تمامتر مزاحمتی محاذ، اسکے اراکین، مسئلہ فلسطین، مسئلہ قدس اور پورے خطے کیلئے انتہائی خطرناک ثابت ہو گا،انہوں نے خطے سے امریکی انخلا کا فارمولا دیتے ہوئے کہا کہ جب امریکی افسروں اور فوجیوں، جو خطے میں تو عمودی حالت میں آئے ہیں لیکن واپسی پر افقی حالت میں لوٹیں گے،ان کے تابوت امریکا واپس پہنچیں گے تو تب ڈونلڈ ٹرمپ کو سمجھ آئے گی کہ اس نے کیا کام انجام دیا ہے اور پھر الیکشن میں بھی وہ کامیاب نہیں ہو سکے گا، انہوں نے کہا کہ مزاحمتی محاذ میں ہمارا مقصد یہی ہونا چاہئے، حسن نصراللہ نے قاسم سلیمانی کی شہادت کو استقامت کی تاریخ کے نئے مرحلے کا آغاز قرار دیا اور کہا کہ جس دن امریکا کو خطے سے نکال باہر کر دیا جائیگا اسی دن یہ صہیونی بھی اپنے بریف کیسز اٹھا کر نکل جائیں گے اور ہمیں اس مقصد کیلئے مزید کسی جدوجہد کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی۔


































