
یمن کی مقاومتی تحریک "انصار الله” کے ڈپٹی میڈیا ڈائریکٹر "نصر الدین عامر” نے شہاب نیوز سے گفتگو میں کہا کہ ہم پر غزہ محاذ سے پیچھے ہٹنے کے لئے بہت زیادہ دباؤ ہے۔ ہمیں اقتصادی صورت حال کی بہتری اور یمن کے سیاسی حل کی تجاویز کا جھانسہ دے کر غزہ کے حوالے سے اپنے موقف سے ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن ہم نے ان تمام پیشکشوں کو ٹھکرا دیا۔ نصر الدین عامر نے کہا کہ محاذ پر ہمارا اتحاد، امت کا نقطہ قوت ہے جس سے صیہونی دشمن پریشان ہے۔ اس اتحاد سے صیہونیوں کو تکلیف ہوتی ہے اسی وجہ سے وہ مسلمانوں میں مسلسل تفرقہ پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ انصار الله اپنی عسکری صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ کر رہی ہے۔
نصر الدین عامر نے کہا کہ آنے والے دنوں میں کشیدگی میں اضافے کی مختلف صورتیں ہمارے سامنے آئیں گی۔ تاریخ لکھے گی کہ یمن نے مستکبرین کا سمندر میں محاصرہ کیا اور ان کے بحری جہازوں کا راستہ روک لیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر جنگ پھیلتی ہے اور بہت سے ممالک دشمن کی حمایت میں اس جنگ میں کودتے ہیں تو ایسی صورت حال میں یمن بھی اپنی حملوں کا انداز تبدیل کرے گا اور حمایتی محاذ کی بجائے بلافاصلہ جنگ میں شامل ہو گا۔ نصر الدین عامر نے کہا کہ گزشتہ عرصے میں انصار الله نے علاقائی ممالک کو خبردار کیا تھا کہ امریکہ سب کو جنگ میں گھسیٹنا چاہتا ہے۔ تاہم ہم امریکیوں کو بتا چکے ہیں کہ یہ جنگ اُن کے مفاد میں نہیں۔


































