
Oplus_16908288
ترتیب و تنظیم: علی واحدی
صیہونی اخبار "یدیعوت احارنوت” نے اپنی ایک رپورٹ میں یمن میں انصاراللہ تحریک کے افریقہ کے مختلف علاقوں میں پھیلنے کے بارے میں خبر دی ہے۔ اس صیہونی اخبار نے خبردار کیا ہے کہ اس رجحان سے صیہونی حکومت کو پہلے سے بھی زیادہ سنگین خطرے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ انصاراللہ تحریک مختلف ممالک میں اسلحہ بھیج رہی ہے اور یہ غیر متوقع ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی حساس علاقوں میں ہو رہا ہے۔ اخبار کے مطابق حالیہ برسوں میں، انصاراللہ افواج نے جیبوٹی، صومالیہ، ارد صومالیہ، پینٹلینڈ، اریٹیرا اور ایتھوپیا سمیت ہارن آف افریقہ کے علاقوں میں اپنی موجودگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان علاقوں پر انصاراللہ کے کنٹرول نے آہستہ آہستہ اسٹریٹجک اہمیت حاصل کرلی ہے، جس کا مقصد ان علاقوں میں اپنی موجودگی کو مستحکم کرنا اور صیہونی حکومت کے لئے چیلنج پیدا کرنا ہے۔
اخبار نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ ہارن آف افریقہ اور سوڈان اسٹریٹجک طور پر اہم ہیں، کیونکہ یہ علاقے خلیج عدن کے دوسری طرف اور بحیرہ احمر کے ساحل کے ساتھ واقع ہیں۔ میڈیا کا خیال ہے کہ ان علاقوں میں اثر و رسوخ کے پھیلاؤ سے خطے میں طاقت کے توازن پر اثر پڑ سکتا ہے اور غزہ کی پٹی میں مزاحمتی گروہوں کو امداد کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ اخبار یدیوت احارنوت نے مزید کہا کہ حوثی افریقہ کے سینگ میں داخل ہو رہے ہیں، جو اسرائیل کے لیے ایک اہم اسٹریٹجک مرکز ہے۔ دوسری طرف امریکہ اس بات سے مایوس ہے کہ یمن کے خلاف جاری کارروائیوں کا اثر محدود سے محدود تر ہو رہا ہے۔ امریکہ نے صیہونی حکومت کی حمایت میں اور یمن کی جانب سے اسرائیل کے خلاف لگائے گئے بحری محاصرے کو توڑنے کی کوشش میں یمنی شہریوں پر حملے کیے ہیں، جن میں اب تک درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوچکے ہیں۔
ان حملوں کے باوجود، یمنی مسلح افواج نے غزہ کی پٹی میں فلسطینی قوم اور مزاحمت کی حمایت میں آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں اور ان کارروائیوں کے ذریعے مقبوضہ علاقوں کے دل یعنی بحیرہ احمر اور بحر ہند میں صیہونی حکومت سے وابستہ جہازوں اور یہاں تک کہ امریکی بحری جہازوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ انصاراللہ نے متعدد جدید امریکی ڈرونوں کو بھی مار گرایا ہے۔ اسی سلسلے میں، سیانان نیٹ ورک نے جمعہ کی رات کو باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ یمن کے خلاف امریکی فوجی کارروائی پر اب تک تقریباً ایک ارب ڈالر خرچ ہوچکے ہیں، لیکن اس کا حوثیوں کی صلاحیتوں کو ختم کرنے میں محدود اثر پڑا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے نے نام ظاہر نہ کرنے والے تین افراد کے حوالے سے بتایا ہے کہ 15 مارچ سے شروع ہونے والے تین ہفتوں کے دوران امریکی فوجی کارروائی میں سینکڑوں ملین ڈالر مالیت کے اسلحے کا استعمال کیا گیا ہے، جن میں جے اے ایس ایم لانگ رینج کروز میزائل، جے ایس او ڈبلیو گائیڈڈ بم اور توما ہاک میزائل شامل ہیں۔ سی این این نے اپنے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ حوثیوں کے خلاف امریکی کارروائی میں تین ہفتوں سے بھی کم عرصے میں ایک ارب ڈالر خرچ ہوئے ہیں، لیکن ان حملوں کا اثر انتہائی محدود ہے۔ ان ذرائع نے اعتراف کیا کہ اگرچہ امریکیوں نے یمن میں کچھ علاقوں کو تباہ کیا ہے، لیکن اس سے بحیرہ احمر پر حملے جاری رکھنے کی انصاراللہ کی صلاحیتوں پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے۔


































