امریکا نے افغانستان میں اپنے فوجیوں کیخلاف جنگی جرائم کی تحقیقات روکنے کیلئے عالمی فوجداری عدالت کے عہدیداروں پر پابندی لگادی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے تو عالمی فوجداری عدالت کو کینگرو کورٹ ہی قرار دے ڈالا جبکہ امریکی وزیر انصاف ولیم بارر کہتے ہیں وہ عدالت کے عہدیداروں کیخلاف بدعنوانی کے الزاما ت کی تحقیقات کریں گے ، امریکا نے عالمی فوجداری عدالت کیخلاف جو موقف اختیار کیا ہے وہ کوئی نئی اور انوکھی بات نہیں اگر امریکا کے ماضی پر نظر ڈالیں تو اس نے اقوام متحدہ ،سلامتی کونسل،عالمی ادارہ انصاف ، عالمی اداری صحت ،آئی ایم ایف سمیت تمام ہی اداروں کو اپنے اشارے پر نچایا کمزور قوموں کے خلاف ان اداروں کو اپنے ملکی اداروں کی طرح استعمال کیا اور اشارے پر نہ چلنے کی صورت میں ان کے فنڈز روکنے اور پابندیاں لگانے جیسے اقدامات اٹھائے گئے جس کی تازہ ترین مثال عالمی ادارہ صحت ہے جس کے فنڈز امریکا نے روک دئے ہیں اور اب عالمی فوجداری عدالت کے عہدیداروں کیخلاف پابندیوں کے حربہ اختیار کیا گیا ہے ،امریکا نے بظاہر تو یہ قدم افغانستان میں اپنے فوجیوں کے تحفظ کے نام پر اٹھایا ہے لیکن اس کا اصل مقصد اپنی ناجائز اولاد اسرائیل کو جنگی جرائم کے مقدمات سے بچانا ہے،پابندی عدالتی حکام کیلئے انتباہ ہے کہ اگر اس نے اسرائیل کیخلاف تحقیقات کی ضد نہ چھوڑ ی تو اس سے بڑا اقدام کیا جاسکتا ہے، ٹرمپ انتظامیہ میں شامل عہدیدار کئی بار کہہ چکے ہیں کہ وہ عالمی فوجداری عدالت کو اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی تحقیقات کرنے کی اجازت نہیں دیں گے،اقوام متحدہ نے 2008 میں غزہ کے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیل کی 22 روزہ جارحیت کے بعد رچرڈ گولڈ اسٹون کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی قائم کی تھی جس کا مقصد اسرائیل کے جنگی جرائم کے بارے میں رپورٹ تیار کرنا تھا ،تحقیقات ہوئیں لیکن اس کی رپورٹ کہا ں گئی کسی کو یاد نہیں، عالمی فوجداری عدالت کو یہ حق حاصل ہے کہ اگر کوئی ملک دوسرے ملک کے خلاف زیادتی اور ناانصافی کا ارتکاب کرے تو اس کے سدباب کا سامان کیا جائے عالمی فوجداری عدالت ایک بڑا اور قابل احترام ادارہ ہے، لیکن کتنے شرم کا مقام ہے کہ امریکا اسے دھمکیاں دے رہا اور اس پر پابندیاں بھی لگارہا ہے، اور اس کیخلاف کہیں سے توانا آواز بلند نہیں ہورہی ،برطانیہ ،یورپی یونین اور اقوام متحدہ نے جو بیانات جاری کئے ان کی اہمیت خانہ پری سے زیادہ کچھ نہیں،کیونکہ ان ملکوں میں معاشی مفادات کی زنجیریں پڑی ہوئی ہیں جو انہیں امریکا کے جارحانہ رویوں کے خلاف کسی اقدام کی اجازت نہیں دیتی ہیں، اگرعدل و انصاف کی فراہمی کے عالمی ادارے امریکی دھمکیوں اور دباو میں آکر انصاف کے تقاضوں سے گریز کریں گے تو دنیا میں انصاف کا کیا حشر ہوگا اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں،اگر مسئلہ صرف عالمی عدالت کا ہوتا تو بھی شائد اسے برداشت کرلیا جاتا لیکن امریکا نے تو پورے عالمی نظام کو ہی یرغمال بنارکھا ہے، جو بات نہ سنے پابندیاں لگادو ، چڑھائی کرکے اس کی آواز کچل ڈالو،لیکن یہ سلسلہ اب زیادہ عرصے چلنے والا نہیں ، امریکی جبر کے خلاف اب آواز خود امریکا کے اندر سے بھی اٹھ رہی ہے۔


































