
اٹلانٹا: امریکا میں پہلے صدارتی مباحثے میں صدر جوبائیڈن اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک دوسرے کو اسرائیل کا بہترین دوست ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ مباحثے میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور صدر جوبائیڈن میں سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔ بحث کے دوران مسئلہ فلسطین کا باقاعدہ تذکرہ تو نہیں ہوا لیکن کئی مواقع پر دونوں صدارتی امیدواروں نے ایک دوسرے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ صدر بائیڈن نے کہا کہ ہم نے اسرائیل کو بچا لیا اور میری حکومت دنیا میں کسی سے بھی زیادہ اسرائیل کی مدد کرنے والی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حماس کو برقرار رہنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی اور ہم نے اسے کمزور کیا ہے۔ حماس کے سوا سبھی فریق جنگ بندی پر راضی ہیں اور ہم انہیں اس پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ٹرمپ نے جوبائیڈن کے دعوؤں کو مسترد کردیا اور کہا کہ اسرائیل کو اس کا کام مکمل کرنے دینا چاہیے لیکن بائیڈن اسے روک رہے ہیں۔ بائیڈن ایک فلسطینی بن گئے ہیں لیکن یہ بہت برے فلسطینی ہیں اس لیے وہ انہیں پسند نہیں کرتے۔ بائیڈن حکومت یہ مطالبہ کرتی رہی ہے کہ اسرائیل غزہ میں شہریوں کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کرے۔ انہوں نے اسرائیل کو بھیجے جانے والے کچھ ہتھیار روک لیے ہیں۔ جب ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ آیا وہ خطے میں امن کے لیے آزاد فلسطینی ریاست کی تشکیل تسلیم کریں گے؟ اس پر انہوں نے کہا کہ مجھے اس پر غور کرنا ہوگا۔


































