
انصاراللہ کے سربراہ سید عبدالملک بدرالدین الحوثی نے اقوام متحدہ کی قرارداد کو امریکہ کی جانب سے ویٹو کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ صیہونی حکومت کو غزہ میں نسل کشی پر اکسارہا ہے۔ غزہ کے مظلوم عوام مسلسل 20 ہفتوں سے صیہونی فورسز کے وحشیانہ مظالم کا سامنا کررہے ہیں۔ بڑے پیمانے پر فلسطینی بے گناہ عوام کے قتل عام کے باوجود صیہونی حکومت اپنے مقاصد کے حصول میں ناکام ہے۔ دنیا کے ممالک غزہ کی صورتحال کو اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرنے کے باوجود خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ علاقائی اور عالمی طاقتیں اپنے مفادات کی خاطر فلسطینی مظلوم عوام کی حمایت سے گریز کررہی ہیں۔ الحوثی نے مغرب کی دوغلی پالیسی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر مغربی ممالک پر کوئی اثر نہیں ہورہا۔ اسرائیل جدید ہتھیاروں اور تربیت یافتہ فوج رکھنے کے باوجود غزہ پر قبضہ کرنے میں بری طرح ناکام رہا ہے۔ اس کے برعکس لبنان اور یمن سے مقاومتی بلاک کے حملوں کی وجہ سے اسرائیلی سیکورٹی خطرے میں پڑگئی ہے۔ صیہونی معیشت مفلوج ہوگئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مقاومت کے دندان شکن جواب کی وجہ سے صیہونیوں کے دلوں میں خوف و وحشت کا راج ہے۔ مقبوضہ فلسطین سے صیہونیوں کی آبائی ممالک واپسی شروع ہوگئی ہے۔ مجاہدین کے ہاتھوں ہزاروں اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے ہیں جن کی تعداد بتانے سے اسرائیل گریز کررہا ہے۔


































