
اسلام آباد : وزارت مذہبی امور نے حج کے ناقص انتظامات کا اعتراف کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل حج سے 7 روز میں وضاحت طلب کرلی۔ سیکریٹری وزارت مذہبی امور نے سعودی عرب میں تعینات ڈی جی حج کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت نے بڑا بجٹ مختص کیا، پچھلے دو سالوں سے مشن کے پاس زیادہ کام نہیں تھا کیونکہ 2020 میں حج نہیں ہوا تھا،توقع تھی کہ حج مشن بہترین خدمات فراہم کرنے کے لیے پورے دل سے کام کرے گا۔لیکن توقع کے برعکس حج انتظامات کافی ناقص رہے۔ سیکریٹری مذہبی امور نے کہا کہ میں نے سینکڑوں درخواستیں وصول کیں جن میں کھانے کے کم معیار کے بارے میں شکایات تھی، منیٰ اور عرفات میں انتظامات انتہائی خراب تھے ۔ ٹرانسپورٹ بھی بروقت فراہم نہیں کی گئی، مجھے 50 دیگر افراد بشمول خواتین سمیت عرفات سے دو گھنٹے تک پیدل چلنا پڑا۔ سیکریٹری مذہبی امور نے کہا کہ آپ اور آپ کے ڈائریکٹرز کو فیلڈ اور ورکنگ ڈے میں ہونا چاہیے تھا، رات میں نے ذاتی طور پر ڈائریکٹر مکہ اور مدینہ کو احرام میں حج کرتے دیکھا، حج سے پہلے اور عرفات کے دن میری طرف سے واضح ہدایات کے باوجود آپ نے جان بوجھ کر تمام احکامات کی نافرمانی کی۔ نوٹس میں کہا گیا کہ آپ سے اگلے 07 دنوں کے اندر اپنے موقف کی وضاحت کریں، اگر ایسا نہ کیا گیا تو آپ اور آپ کے ڈائریکٹرز کے خلاف تادیبی کارروائی شروع کی جائے گی۔


































