
کراچی : دعا زہرا کے اغوا کے وقت اس کا مبینہ شوہر ظہیر احمد کراچی میں ہی موجود تھا۔ اس بات کا انکشاف تفتیشی افسر کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی گئی پیش رفت رپورٹ میں ہواہے۔ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں تفتیشی افسر کی تبدیلی سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران پیشرفت رپورٹ جمع کرائی گئی۔ رپورٹ کے مطابق دعا زہرا کم عمر ہے۔ ملزم ظہیر کا سی ڈی آر ریکارڈ بھی حاصل کرلیا گیا۔ سی ڈی آر کے مطابق اغواء کے دن یعنی 16 اپریل کو ملزم ظہیر کراچی میں تھا نئے شواہد اور ثبوتوں کی بنیاد پر ملزمان کیخلاف چالان عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ پولیس نے ملزمان کیخلاف کم عمری میں شادی کی دفعات شامل کرنے کی اجازت بھی مانگ لی۔ کیس کی مزید سماعت 19 جولائی کو ہوگی۔ مقدمے میں 33 ملزمان نامزد ہیں،جس میں ملزم ظہیر کی والدہ نور بی بی سمیت 8 خواتین بھی شامل ہیں۔ دعا زہرا کے والد مہدی کاظمی کے وکیل ناصر جبران نے ٹوئٹ کیا کہ کیس میں یہ پیش رفت 2 ماہ پہلے سامنے آجانی چاہیے تھی، مغوی بچی کو کیمرے کے سامنے جھوٹ بولنے پر مجبور کیا گیا۔ آج کی پیش رفت کے دو پہلو تھے، پہلا یہ کہ دعا زہرا کی عمر 18 سال نہیں بلکہ میڈیکل بورڈ کی نئی رپورٹ کے مطابق 14 سال ہے۔ دوسرا یہ کہ پہلے کہا گیا تھا کہ دعا خود لاہور گئی اور وہاں ظہیر سے ملاقات کی، یہ بات اب ظہیر کے سی ڈی آر نے جھوٹی ثابت کر دی ہے۔ دعا زہرا کیس کا آئی او اب بھی ملزم ظہیر کو بچا کر فائدہ پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔


































