
Khalil al-Hayya, senior leader and top Hamas legislative candidate, smiles during an interview with AFP at his office in Gaza City on April 21, 2021. Postponing elections "even for a single day” will push Palestinians "into the unknown”, al-Hayya warned in an interview ahead of a long-awaited vote that is clouded with uncertainty. On May 22, Palestinians from the occupied West Bank, the Gaza Strip and east Jerusalem are scheduled to vote for the first time since 2006. (Photo by Emmanuel DUNAND / AFP)
تحریر: ڈاکٹر صابر ابومریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان
تاریخِ فلسطین کا مطالعہ کرنے سے علم ہوتا ہے کہ ہمیشہ سے فلسطین کے عوام اور باسیوں نے اپنے حقوق کے لئے جدوجہد جاری رکھی ہے۔ چاہے یہ جدوجہد کسی خاص تنظیمی نام کے ساتھ ہو یا نہ ہو لیکن یہ بات تو واضح ہے کہ فلسطینی عوام نے ہمیشہ اپنے وطن پر ہونے والے صیہونی قبضہ سے متعلق تمام بین الاقوامی سازشوں کا قبضہ سے پہلے اور قبضہ کے بعد ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے۔ اس لئے آج دنیا میں جہاں کہیں بھی فلسطین کا نام لیا جاتا ہے تو مزاحمت کا نام فلسطین کے ساتھ لیا جاتا ہے کیونکہ فلسطینیوں نے دنیا کو بتایا ہے کہ ہر چیز کو قربان کرنے کے بعد بھی مزاحمت کو ترک نہ کرنا ہی مردانہ زندگی ہے۔
فلسطین کی آزاد و غیور سرزمین ہمیشہ سے جرات، قربانی اور استقامت کی تاریخ تحریر کرتی آئی ہے۔ تحریکی جدوجہد کی دنیا میں کچھ ایسے موڑ آتے ہیں جہاں لگتا ہے کہ اندھیرا گہرا ہو گیا ہے، لیکن انہی تاریکیوں سے ایک نیا سحر طلوع ہوتا ہے۔ ایسے حالات کئی مرتبہ آئے ہیں۔ جب عزالدین القسام کو شہید کیا گیا تو ایسا محسوس ہوا کہ اب تحریکی زندگی میں اندھیرا ہوجائے گا لیکن پھر مزاحمت کی روشنی نے اپنا راستہ بنایا اور فلسطینوں کی تحریک آگے بڑھی۔ پھر ایک اور موقع پر جب غاصب صیہونی دشمن نے شیخ احمد یاسین جیسی عظیم و بزرگ ہستی کو بھی شہید کیا تو پھر فلسطینی تاریخ میں کچھ دیر کے لئے اندھیرے نے جگہ لی لیکن جلد ہی یہ اندھیرا مزاحمت کے نئے فرزندوں کی آمد کے ساتھ چھٹتا چلا گیا۔
گذشتہ چند سالوں میں فلسطینی عوام او ر فلسطین کی مزاحمتی تحریکوں نے بے پناہ قربانیوں سے آزادی کی تحریک کے نئے ابواب رقم کئے ہیں۔ اسماعیل ہانیہ کی شہادت ہو یا ان کے خاندان کی شہادت اور پھر اسی طرح تحریکِ مزاحمتِ اسلامی (حماس) کے سابق قائد اور معرکہٴ شجاعیہ کے ہیرو شہید یحیٰ سنوار کی میدانِ جنگ میں جامِ شہادت نوش کرنے جیسے واقعات ہوں، ان سب کے بعد مزاحمت کو ایک نیا حوصلہ ملا ہے۔
آج ان سب قائدین کی شہادت کے بعد، حماس نے سیاسی اور عسکری محاذ پر تحریکی تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے خلیل الحیہ کو اپنا نیا سربراہ منتخب کیا ہے۔ یہ انتخاب اسی تسلسل کا حصہ ہے جو سالہاسال سے جاری ہے۔ یعنی مزاحمت کا راستہ ہے جسے دنیا کی کوئی طاقت اور غاصب فوج روک نہیں سکی۔ خلیل الحیہ کا انتخاب محض قیادت کا رسمی تبادلہ نہیں، بلکہ ایک ایسا عہدِ نو ہے جو شہداء کے پاکیزہ خون کی امانت، بالخصوص یحییٰ سنوار کے نقشِ قدم پر گامزن رہنے اور فلسطین کی مکمل آزادی تک جدوجہد جاری رکھنے کا محکم اعلان ہے۔
شہید یحییٰ سنوار نے اپنی زندگی اور اپنے آخری سانس تک جس شجاعت اور اصولی موقف کی بنیاد رکھی، خلیل الحیہ کا انتخاب اسی فکر اور حکمتِ عملی کی توسیع و تسلسل ہے۔ خلیل الحیہ کوئی روایتی سیاست دان نہیں، بلکہ وہ یحییٰ سنوار کے قریبی رفیقِ کار اور ان کی بصیرت و فکر کے سچے امین رہے ہیں۔ یحییٰ سنوار نے میدانی محاذ پر جس استقامت کی مثال قائم کی، خلیل الحیہ سیاسی و سفارتی محاذ پر اسی جرات کو دوام بخش رہے ہیں۔ ان کا قیادت سنبھالنا اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ قائدین کی شہادت سے حماس کمزور نہیں ہوئی، بلکہ تحریک کے مقاصد اور نظریات مزید پختہ ہوئے ہیں۔ خلیل الحیہ کی قیادت میں تحریک اپنے بنیادی موقف یعنی قدس کی آزادی، حقِ بازگشت اور قابض افواج کے مکمل انخلاء پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہ کرنے کے عزم کو دہراتی ہے۔
خلیل الحیہ کی قیادت کو جو چیز سب سے ممتاز اور فلسطینی عوام کے نزدیک قابلِ احترام بناتی ہے، وہ ان کا وہ لافانی کردار ہے جو انہوں نے شدید ترین ذاتی اور خاندانی صدمات کے باوجود قائم رکھا۔ وہ ایک ایسے رہنما ہیں جنہوں نے جدوجہد کی قیمت محض تقریروں سے نہیں بلکہ اپنے جگر گوشوں کے خون سے چکائی ہے۔سن 2007ء سے 2014ء اور موجودہ جنگ کے دوران اسرائیلی قابض فورسز نے ان کے گھر پر متعدد بار ٹارگٹڈ حملے کیے، جن میں خلیل الحیہ کے بیٹے، بہوئیں، پوتے پوتیاں اور خاندان کے درجنوں افراد جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں۔
خلیل الحیہ حقیقت میں ابو شہداء ہیں۔ اپنے ہاتھوں سے اپنوں کے جنازے اٹھانے کے باوجود ان کے عزم میں ذرہ برابر لغزش نہیں آئی۔ انہوں نے اپنے ذاتی غم کو قوم کے غم میں ضم کر دیا اور ہمیشہ مظلوم فلسطینیوں کے لیے ایک مضبوط ڈھال بنے رہے۔ اپنے بیٹوں کی قربانیوں کی بدولت وہ صرف ایک تحریکی قائد نہیں بلکہ فلسطینی قوم کے دکھ درد کے حقیقی شریک اور سچے رہنما کے طور پر ابھرے ہیں۔ خلیل الحیہ کی سربراہی میں حماس ایک ایسے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں سیاسی بصیرت، سفارتی تجربہ اور مزاحمتی جذبہ مل کر ایک طاقتور حکمتِ عملی کی تشکیل کریں گے۔ ان کا وسیع سیاسی اور مذاکراتی تجربہ حماس کے مستقبل کے لیے انتہائی مثبت نتائج کا حامل ثابت ہوگا۔
خلیل الحیہ تمام فلسطینی دھاروں اور مزاحمتی تنظیموں کو ایک نقطے پر متحد کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کی قیادت میں اندرونی صف بندی مزید مضبوط ہوگی۔ ان کا سفارتی تجربہ حماس کے لیے عرب و اسلامی ممالک کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر فلسطین کے موقف کو زیادہ جامع، طاقتور اور اثر انگیز انداز میں پیش کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ خلیل الحیہ کا شہید سنوار کے راستے پر قائم رہنے کا اعلان اس بات کا ضامن ہے کہ شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا اور مستقبل میں حماس ہر محاذ (سیاسی ہو یا میدانی) پر کامیابی کی طرف قدم بڑھائے گی۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی مزاحمتی تحریکوں کے صفِ اول کے رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا، وہ تحریکیں ختم ہونے کے بجائے مزید توانائی کے ساتھ ابھریں۔ یحییٰ سنوار کی شہادت اور خلیل الحیہ کا بطور سربراہ انتخاب اسی تاریخی حقیقت کا روشن ثبوت ہے۔ خلیل الحیہ کا یہ سفر صرف ایک فرد کی قیادت کا سفر نہیں، بلکہ یہ تمام شہداء اور ان کے لختِ جگر بیٹوں کی قربانیوں کا تسلسل ہے۔ ان کی سرپرستی میں حماس نہ صرف شہداء کے خون کی امانت دار رہے گی بلکہ فلسطینی قوم کو آزادی، عزت اور فتح کی منزل کے مزید قریب لے کر جائے گی۔ یہ نیا دور فلسطین کی آزادی کے ایک نئے اور تابناک باب کا آغاز ثابت ہوگا۔


































