
بچوں کے احترام سے متعلق چند ایک موارد مندرجہ ذیل ہیں:
بچوں کو سلام کرنا
بچوں کو سلام کرنا معصومین (ع) کی سیرت کا حصہ رہا ہے اور انہوں نے اس کام کی تاکید کی ہے۔
امام علی رضا (ع) روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ میں پانچ چیزیں مرتے دم تک نہیں چھوڑوں گا۔ جن میں سے ایک کام بچوں کو سلام کرنا تھا۔
بچوں کی دعوت کو قبول کرنا
امام حسن علیہ السلام کا ان بچوں کے قریب سے گزر ہوا جو کھیل رہے تھے اور روٹی کا ٹکڑا کھا رہے تھے۔ بچوں نے اسے امام حسن علیہ السلام کو پیش کیا۔ امامؑ نے ان کی دعوت قبول کی اور ان کے ساتھ مل کے روٹی کھائی۔ پھر آپ ان بچوں کو اپنے گھر لے گئے اور انہیں کھانا کھلایا اور قیمتی کپڑوں سے نوازا۔ امامؑ نے فرمایا کہ ان کی دعوت میری دعوت سے زیادہ قیمتی تھی کیونکہ انہوں نے مجھے وہ سب کچھ دے دیا جو ان کے پاس تھا لیکن میرے پاس اس سے زیادہ ہے جو میں نے انہیں دیا۔
بچوں کو احترام سے پکارنا
آئمہ معصومین علیہم السلام کی زندگی میں بچوں کو "یَا بُنَیَّ” کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ یعنی میرے پیارے بچے۔
حضرت علیؑ نے اولاد کے بارے میں فرمایا: اس سے پہلے کہ دوسرے لوگ تمہارے بچوں کو بُرے القاب دیں تم انہیں اچھی کنیت سے نوازو۔ یاد رہے کہ عرب احترام کے لیے کنیت کا استعمال کرتے ہیں۔
بچوں کے ساتھ کھیلنا*
بچوں کے احترام کا ذریعہ ان میں کھیلوں کی ضرورت کا قائل ہونا ہے۔ بچوں کے ساتھ کھیل کے متعلق پیغمبر اکرم(ص) کی سیرت میں ہمیں ملتا ہے کہ بعض اوقات بچے گلی میں کھیل رہے ہوتے اور آپؐ کا وہاں سے گزر ہوتا تو وہ آپ کے ناقہ پہ سوار ہونے کا تقاضہ کرتے۔ آپ انھیں اپنے مقام و مرتبہ کے باوجود ساتھ سوار کر لیتے اور ان کی خواہش کا احترام کرتے۔ ایسی روشیں بچوں میں عزت نفس کو پروان چڑھاتی ہیں۔
عزت نفس ایک خوبصورت، قیمتی اور صاف ستھرے لباس کی مانند ہے جب ہمارا بچہ اسے زیب تن کر لیتا ہے تو ہر چیز کے پیچھے نہیں بھاگتا۔


































