
وزیراعظم کے دورہ میں 50 کروڑ ڈالر آسان قرضہ دینے کا وعدہ ، امارات اور سعودی عرب کا پہلے سے موجود 2 ارب ڈالر بھی واپس نہ لینے کی یقین دہانی
توانائی، ہائیڈرو پاور جنریشن، انفرااسٹرکچر، ٹرانسپورٹ میں تعاون کے سمجھوتے، سپریم کوآرڈیشن کونسل کا قیام، مشترکہ اہداف کے حصول کے لئے مزید تعاون پر اتفاق
جدہ (نیوز ڈیسک) پاکستانی وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل باجوہ کے دورہ سے دونوں ممالک کے درمیان غلط فہمیاں دورہوگئیں،دورے کے دوران سعودی عرب نے پاکستان کو 50 کروڑ ڈالر آسان قرضہ دینے کا وعدہ کیا اور عرب امارات اور سعودی عرب کا پہلے سے موجود 2 ارب ڈالر بھی واپس نہ لینے کی یقین دہانی کروا دی گئی،قریبی رابطے رکھنے کیلئے سعودی پاکستان سپریم کوآرڈینیشن کونسل قائم کردی گئی ، جس کی قیادت محمد بن سلمان اور وزیراعظم عمران خان مشترکہ طور پر کریں گے، مشترکہ اعلامیہ میں دوطرفہ تعلقات کو سیکیورٹی سے ہٹ کر دیگر شعبوں تک پھیلانے کی بھی بات کی گئی جن میں توانائی، سائنس، ٹیکنالوجی، زراعت اور ثقافت شامل ہیں، پاکستان میں توانائی، ہائیڈرو پاور جنریشن، انفرااسٹرکچر، ٹرانسپورٹ اینڈ کیمونیکیشن اور واٹر ریسورس منیجمنٹ کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کے لیے فریم ورک ایم او یو پر دستخط ہوئے،وزیراعظم عمران خان تین روزہ دورے پر سعودی عرب پہنچے اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی،انہوں نے دو طرفہ فوجی اور سیکیورٹی تعلقات کی مضبوطی پر اپنے اطمینان کی تصدیق کی اور دونوں ممالک کے مابین مشترکہ اہداف کے حصول کے لئے مزید تعاون پر اتفاق کیا،فریقین نے عالم اسلام کی طرف سے انتہا پسندی اور تشدد کا مقابلہ کرنے اور فرقہ واریت کو مسترد کرنے اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے حصول کے لئے بھرپور کوششوں پر زور دیا، جدہ میں پاکستانیوں سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ان کے دورے سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے،کہ اگر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بروقت ہماری مدد نہ کرتے تو ہم دیوالیہ ہوجاتے اور پھر ہماری معیشت کے لیے بڑی مشکلات پیدا ہوجاتیں، دورے کے بعد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کا سعودی عرب کا دورہ انتہائی غیر معمولی رہا اور اس کے واضح نتائج آنے والے دنوں میں دکھائی دیں گے ،انھوں نے کہا کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور عمران خان کے درمیان جو معاہدہ ہوا ہے اس کے تحت اب ایک باضابطہ سٹرکچر بن گیا ہے اور اس کے تین اصول طے ہو گئے ہیں کہ سکیورٹی، سیاسی اور اقتصادی معاملات میں کیا بات ہو گی اور کون لیڈ کرے گا،اس سے پہلے جنرل قمر جاوید باجوہ اس اعلی سطح کے دورے کے لیے زمین ہموار کرنے ریاض پہنچے۔


































