
رمضان المبارک کی پہلی رات قابض بھارتی فوج گھروں میں گھس گئی، مکینوں کو ہراساں کیا،گالم گلوچ کی اورسحری کرنے سے روکنے کی کوشش کی
جموں کشمیر یوتھ سوشل اینڈ جسٹس لیگ کا غیر قانونی طور پر نظر بند تمام حریت رہنماؤں اور کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ
سری نگر(نیوز ڈیسک)مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کاظلم وبربریت جاری ہے۔ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں,کشمیر میں بھارتی فوجی بے لگام، کئی علاقوں میں رمضان المبارک کی پہلی رات کے وقت گھروں میں گھس گئے اور مکینوں کو ہراساں کیا اور انکے ساتھ گالم گلوچ کی اورسحری کرنے سے روکنے کی کوشش کی۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق مقامی لوگوں نے کہا کہ قابض بھارتی فوجیوں نے ماہ رمضان میں بھی ان پر مظالم کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیومیں کولگام کے علاقے فرصل کی ایک خاتون کو گھروں پر فوجیوں کے چھاپوں کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ خاتون نے کہا کہ فوجیوں نے رمضان المبارک کی پہلی رات کو گھروں پر چھاپوں کے دوران لوگوں کو ہراساں کیا اور خواتین کو سحری کیلئے کھانا تیار کرنے سے روکا۔قابض فوجیوں نے مختلف اضلاع سے سرچ آپریشنز کے دوران سات نوجوان گرفتار کر کے نامعلوم تفتیشی مرکز میں منتقل کر دیئے۔ فوجیوں نے ضلع پلوامہ کے علاق کمرازی پورہ میں بھی تلاشی کی کارروائی کی۔ حریت رہنماؤں آغا سید حسن الموسوی الصفوی، مختار احمد وازہ اور عبدالصمد انقلابی نے اپنے بیانات میں کشمیریوں اور پوری مسلم امہ کوماہ رمضان کی مبارکباد دی ہے۔ جموں کشمیر یوتھ سوشل اینڈ جسٹس لیگ نے سرینگر میں ایک اجلاس کے دوران غیر قانونی طور پر نظر بند تمام حریت رہنماؤں اور کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔دریں اثناء سرینگر اور دیگر علاقوں میں آج ایک بار پھربینرز آویزاں کئے گئے جن میں کشمیریوں کے اس عزم کا اعادہ کیاگیا کہ حق خودارادیت تنازعہ کشمیر کا واحد حل ہے۔ جموں و کشمیر لبریشن لیگ، جموں و کشمیر ڈیموکریٹک جسٹس پارٹی اور جموں و کشمیر جسٹس اینڈ پیس انشییٹوکی طرف سے صورہ، لال چوک، آبی گزر، نوشہرہ،حول، جڈی بل اور دیگر علاقوں میں لگائے گئے بینرز میں کہاگیا ہے کہ کشمیرکوئی علاقائی تنازعہ یا امن وامان کا مسئلہ نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پرتسلیم شدہ تنازعہ ہے جس کو ہنگامی بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ مودی کی فسطائی بھارتی حکومت انسانیت کے خلاف جرائم بالخصوص مقبوضہ جموں وکشمیر میں کئے گئے اقدامات کی وجہ سے اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو بچانے کے لئے ”رائیسنا ڈائیلاگ“ جیسی تقریبات کی میزبانی کرکے عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ رائیسینا مذاکرات جن کاآغاز 2016 میں ہوا،بھارت کی طرف سے جیوپولیٹکس اور جیو اکنامکس کے پرکشش بینر تلے منعقد کی جانے والی ایک کثیرملکی کانفرنس ہے جودراصل بھارتی حکمرانوں کی ایک اور منافقانہ کارروائی ہے تاکہ بھارتی سامراج کے مذموم عزائم سے توجہ ہٹائی جائے۔رپورٹ میں بھارت کے اس دعوے کو کہ ایسی تقریبات سے بھارت انسانی معاشرے میں استحکام لانے کی کوشش کررہا ہے مسترد کرتے ہوئے کہاگیا ہے کہ بھارت اپنے ہمسایہ ممالک پاکستان اور چین کے خلاف تخریبی کارروائیوں میں مصروف ہے جس سے یورپی یونین کی ڈس انفو لیب نے حال ہی میں پردہ اٹھایا ہے۔ کانگریس کے سینئر رہنما اور سابق بھارتی وزیر سیف الدین سوز نے بھارت کے نائب صدر ایم وینکیا نائیڈوکے حالیہ بیان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ دفعہ 370 کی منسوخی غلط اور غیر آئینی اقدام تھا اور کشمیر ی عوام کو اس کے خلاف اپنی آواز بلند کرنے کا پوراحق ہے۔سینئر کانگریس رہنما رمن بھلہ نے جموں میں مقامی تاجروں سے گفتگو کرتے ہوئے بی جے پی حکومت اور قابض انتظامیہ کی عوام دشمن اور تاجر دشمن پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔


































