Sun Oct 11, 2026

آئی سی سی نے امریکی پابندیاں مسترد کر دیں امریکا نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کردیں امریکی حکام تہذیبی جنگ کا بیانیہ بنانے سے قبل ماضی کے واقعات کا مطالعہ کریں، محسن رضائی ٹرمپ نے ایران سے جنگ چھیڑ کر امریکا کو رسوا کیا، امریکی سینیٹر گلگت بلتستان کے وسائل پر کسی بیرونی طاقت کو اثر انداز نہیں ہونے دیں گے، مرکزی انجمن امامیہ ٹرمپ کی پھر رسوائی، امن کا نوبل انعام انسانی حقوق کی وکیل ناوی پلے کے نام آبنائے ہرمز میں ایل پی جی گیس بردار جہاز پر حملہ، آگ لگ گئی پاکستان ہر خطرے کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہے گا، وزیراعظم سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ

روزانہ کی خبریں

عراق جنگ، ہر امریکی ٹیکس دہندہ کے 8 ہزار ڈالر اخراجات

امریکا نے عراق جنگ پر اپنے ٹیکس دہندگان کے 20 کھرب ڈالر پھونک دیے
واشنگٹن (نیوز ڈیسک) امریکا نے عراق جنگ پر اپنے ٹیکس دہندگان کے 20 کھرب ڈالر پھونک دیے، اس بات کا انکشاف جنگی اخراجات کی مشترکہ ڈائریکٹر نیٹا کرافورڈ نے اپنے نئے تخمینے میں کیا، نیوزویک کی رپورٹ کے مطابق عراق جنگ ہر امریکی ٹیکس دہندہ کو 8ہزار ڈالر میں پڑی، یہ تخمینہ پینٹاگون کے تخمینے سے کہیں زیادہ ہے جس میں عراق اور شام میں ہر امریکی ٹیکس دہندگان کے 3907 ڈالر اخراجات کا اندازہ لگایا گیا تھا، مارچ 2019 میں محکمہ دفاع نے دعویٰ کیا تھا کہ عراق، افغاستان اور عراق جنگ میں امریکی ٹیکس دہندہ کے 7623 ڈالر خرچ ہوئے ہیں، براؤن یونیورسٹی کے توسط سے تحقیق میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کے بعد امریکی جنگوں کے انسانی، معاشی اور سیاسی اخراجات کا تخمینہ لگایا گیا ہے، شریک ڈائریکٹر اسٹیفنی سیول نے کہا کہ جب جنگ سے متعلقہ اخراجات کی بات ہو تو امریکیوں کے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ ان کے ٹیکس کی رقم کہاں خرچ کی گئی،اب امریکی شہری دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر عراق اور دیگر جگہوں پر امریکی فوجی موجودگی کی خوبیوں پر بحث کرتے ہیں تو انہیں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جنگ کے اخراجات ان کی سوچ سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Most Popular