Sun Oct 11, 2026

آئی سی سی نے امریکی پابندیاں مسترد کر دیں امریکا نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کردیں امریکی حکام تہذیبی جنگ کا بیانیہ بنانے سے قبل ماضی کے واقعات کا مطالعہ کریں، محسن رضائی ٹرمپ نے ایران سے جنگ چھیڑ کر امریکا کو رسوا کیا، امریکی سینیٹر گلگت بلتستان کے وسائل پر کسی بیرونی طاقت کو اثر انداز نہیں ہونے دیں گے، مرکزی انجمن امامیہ ٹرمپ کی پھر رسوائی، امن کا نوبل انعام انسانی حقوق کی وکیل ناوی پلے کے نام آبنائے ہرمز میں ایل پی جی گیس بردار جہاز پر حملہ، آگ لگ گئی پاکستان ہر خطرے کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہے گا، وزیراعظم سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ

روزانہ کی خبریں

شام میں 8 سال بعد عمان کا سفیر مقرر

دونوں برادر ممالک کے مابین باہمی تعاون اور مشترکہ مفادات کے راستوں کو وسعت دینے کے منتظر ہیں
دمشق(نیوزڈیسک) عمان نے 8 سال بعد شام میں اپنا سفیر مقرر کردیا جسے دونوں ممالک کے مابین گہرے تعلقات کے تناظر میں انتہائی اہم تصور کیا جا رہا ہے۔ اس اقدام سے عمان پہلا خلیجی ملک بن گیا ہے جس نے شام میں خانہ جنگی کے آغاز کے بعد اپنا سفیر مقرر کیا۔ واضح رہے کہ عمان سمیت دیگر خلیجی ممالک نے 2012 میں اپنے سفیروں کو واپس بلا لیا تھا۔
دیگر عرب ریاستوں نے اپنے سفارت خانوں کو بند کردیا تھا لیکن عمان نے تنازع کے کئی برس بعد تک سفارتکاری کا راستہ کھلا رکھا۔ خیال رہے کہ عمان علاقائی ممالک کے درمیان غیر جانبداری پر مبنی سفارت کاری کے لیے مشہور ہے۔ عمان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق دمشق میں سفیر کے استقبال کے دوران شام کے وزیر خارجہ ولید المعلم نے عمان کی خارجہ پالیسی اور فریقین کے مابین قریبی برادرانہ تعلقات کے لیے تشکر کا اظہار کیا۔ بیان میں عمان کے نئے سفیر ترکی بن محمود البسعدی کے حوالے سے کہا گیا کہ وہ دونوں برادر ممالک کے مابین باہمی تعاون اور مشترکہ مفادات کے راستوں کو وسعت دینے کے منتظر ہیں۔ چند عرب ممالک جنہوں نے پہلے شام کے صدر بشارالاسد کا بائیکاٹ کیا تھا، اب وہ ان کی حکومت کے ساتھ خاموشی سے رابطے میں ہیں

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Most Popular