
معاہدے میں شامل اپنے حصے کا کام کر لیا،امریکا دوحا معاہدے میں کیے گئے اپنے وعدوں پر عمل کرے،مئی تک تمام افواج افغانستان سے چلی جائیں
اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ سے نام خارج کیا جائے، معاہدے کی تقریب میں شریک ریاستیں اس کے نفاذ کی ذمہ داری نبھائیں، طالبان کا دوٹوک موقف
کراچی (نیوز ڈیسک) امریکا اور طالبان کے درمیان دوحا معاہدے کو ایک سال مکمل ہونے پر طالبان نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دوحا معاہدے کا متبادل تلاش کرنے کا نتیجہ ناکامی ہوگا، طالبان نے امریکا پر زوردیا کہ وہ اپنے وعدوں پر عمل کرے، وہ معاہدے میں شامل اپنے حصے کا کام کرچکے ہیں اور اب امریکا دوحا معاہدے میں کیے گئے اپنے وعدوں پر عمل کرے ،طالبان نے اپنے باقی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ بھی دہرایا، انہوں نے اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ سے اپنا نام خارج کرنے کا بھی مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ عمل انٹرا افغان مذاکرات میں تیزی لائے گا، دوحہ معاہدے کی تقریب میں شریک ریاست قطر، سلامتی کونسل سمیت تمام ممالک اور بین الاقوامی مبصرین پر معاہدے کے مکمل نفاذ کی ذمہ داری عائد ہو تی ہے، جسے پوری کرنا چاہیے ، طے شدہ تاریخ کم مئی تک تمام غیر ملکی افواج افغانستان سے چلی جائیں، وہ معاہدے کی تمام شقوں کی پابندی اور اس پر عمل درآمد افغان تنازع کے حل اور پائیدار امن کا واحد ذریعہ سمجھتے ہے، جو اسلامی نظام کے سائے میں حاصل کیا جائے گا


































