منصوبہ بندی پیارے بچو! حضرت امام خمینی ؒ کی جدوجہد، محنت اور کاموں میں منصوبہ بندی اور ان کے مطالعے اور ان سے رجوع کرنے والوں کو جوابات کا چرچا ہر خاص و عام کی زبان پر تھا۔ آپ اپنی زندگی میں اس قدروقت کے پابند تھے کہ دوسرے لوگ آپ کے کاموں سے اپنا وقت درست کرلیتے تھے۔ حضرت امام خمینی ؒنے اپنے مطالعے، ملاقات، نماز، دعا و مناجات، ورزش اور دوسرے امور اور وظائف کے لئے وقت مقرر کیا ہوا تھا اور بہت ہی کم ایسا اتفاق ہوتا تھا کہ اس کے برخلاف عمل ہو۔ صبر و استقامت یہ دو تحفے اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس کے بندوں اور خصوصاً انبیائؑ اور اولیاءؑ کے لئے ان کے مقصد میں کامیابی کے راز تک پہنچنے کے لئے ہیں ۔ حضرت امام خمینی ؒ میں بھی یہ دو خصوصیتیں تھیں۔ خدا پر توکل خداوند تعالیٰ پر اعتقاد اور توکل ان رازوں میں سے تھا، جن کے ذریعے امامؒ عوام کو میدان میں لائے۔ اس حقیقت نے امت مسلمہ پر اتنا اثر چھوڑا کہ انہوں نے خطرے کو گلے سے لگایا اور دشمن اور اس کی مذموم سازشوں سے کوئی خوف محسوس نہیں کیا کیونکہ وہ ایک پہاڑ کی مانند دل اور توکل برخدا کے ساتھ کھڑے تھے۔ حضرت امام خمینی ؒ انقلاب اسلامی کی کامیابی کے حساس ترین لمحات میں فرماتے تھے کہ اللہ آپ کے ساتھ ہے اور آپ کامیاب ہوں گے۔ آپ کو حق تعالیٰ پر توکل رکھنا چاہیے۔ ظالم کے سامنے ڈٹے رہنا امام خمینی ؒ کبھی بھی ظالموں اور ستم گروں کے سامنے نہیں جھکے بلکہ باطل کے مقابلے میں حق کے لئے جستجو اور کوشش جاری رکھی۔ امام نہ صرف انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد اور نظام حکومت اسلامی کے عروج میں بلکہ وہ انقلاب کی کامیابی سے قبل اور انقلاب اسلامی کے آغاز میں بھی اس خصوصیت کے حامل تھے امام ؒ کی تمام جدوجہد کے دوران یہ خصوصیت رہی کہ وہ فرماتے تھے میرا سینہ ہر وقت تمہارے نیزوں کے لئے کھلا ہی، لیکن میرا دل تمہاری زبردستی اور ستم گری کو ہرگز قبول نہیں کرے گا۔ قید، جلاوطنی ، جنگ، قتل و غارت، مخالفوں کا پروپیگنڈہ اور دشمنوں کی سازشیں غرض کہ کوئی بھی ایسی چیز امام ؒ کو اس راستے سے باز نہیں رکھ سکی۔ سادہ زندگی خود سازی اور روحانیت امام ؒ کی زندگی میں واضح تھی۔ اگرچہ دنیا نے دولت، حکومت اور شہرت سمیت تمام ظاہری شکلوں میں آپؒ کی طرف رجوع کیا، لیکن آپؒ نے بڑے بڑے محلات کو چھوڑ کر جماران کی دیہات میں ایک دو کمروں کے چھوٹے سے مکان میں زندگی بسر کی۔ امام ؒ جب موسم گرما کے دوران نجف اشرف میں ایک چھوٹے سے گھر میں تھے، تب بھی آپؒ نے اس گھر میں اپنے کسی جاننے والے کو کو لر یا پنکھا خریدنے اور نصب کرنے کی اجازت نہیں دی بلکہ کہا کرتے تھے، آیا تمام لوگوں یا اللہ کی راہ میں لڑنے والوں کو یہ سہولتیں حاصل ہیں ؟ اخلاق حسنہ (الف) خاندان میں : امام خمینی ؒ دوسرے لوگوں کی طرح نہیں تھے جو اپنے کاموں کی زیادتی کی وجہ سے گھریلو امور میں صحیح توجہ نہیں دے سکتے تھے بلکہ وہ اپنے پروگراموں میں گہرا نظم و ضبط رکھنے کی وجہ سے خاندان اور دوسرے عزیزوں کے ساتھ بھی بڑے مہربان اور مخلص تھے ۔ انہوں نے کبھی بھی خاندان کے اندر کسی کو حکم نہیں دیا اور نہ ہی کسی دوسرے کے ذاتی معاملات میں مداخلت کی بلکہ وہ ہمیشہ شفیق اور مہربان رہے۔ (ب) شاگردوں کے ساتھ سلوک: اپنے شاگردوں کے ساتھ مخلصانہ اور بھرپور رابطہ امام خمینی ؒ کی خصوصیات میں شامل تھا۔ ان کے نزدیک اساتذہ اور شاگرد جیسا مسئلہ موجود نہیں تھا بلکہ آپؒ رہنمائی کیا کرتے تھے۔ امام ؒ اپنے دوستوں کے ساتھ بھی اتنے ہی مخلص تھے ، وہ ان کا احترام کرتے اور انہیں اپنے اوپر مقدم رکھتے تھے۔ اگر انہیں یہ معلوم ہوتا کہ کوئی طالب علم زیادہ محنت کرکے سبق پڑھتا ہے تو وہ اس کا بھی زیادہ احترام کرتے تھے۔ (ج)لوگوں کے ساتھ تعلقات: پیغمبر اور آئمہ اطہار ؑ کی طرح آپؒ کا لوگوں کے ساتھ بہت قریبی اور مخلصانہ رابطہ تھا۔ آپؒ محروم اور محنت کش لوگوں پر بھروسہ کرتے تھے ۔ ایک شخص کے جواب میں جس نے کہا تھا کہ ہمارے پاس کوئی بم نہیں کہ اسے شاہ (اس وقت کے حاکم) پر پھینک سکیں ۔ امام ؒنے فرمایا تھا کہ ہمارے پاس عوام کی طاقت ہے جو بم سے زیادہ طاقتور اور موثر ہے۔