
ننگر ہار میں مدر آف آل بم استعمال کیا گیا، بعض تباہ کن ہتھیاروں اور بموں میں ڈی پلیٹڈ یورینیم کا استعمال، سرطان اور دوسری نامعلوم بیماری پھیل گئی
کابل میں ہلکے زلزلے معمول بن گئے،ایسے نئے اور تباہ کن ہتھیاروں کا تجربہ کیا گیا جو امریکا یا یورپ میں کرنا ممکن نہیں،افغان نیوز ایجنسی کی رپورٹ
کابل (نیوز ڈیسک) امریکی فوجیوں نے افغانستان کو تباہ کن ہتھیاروں کی تجربہ گاہ بنا دیا، افغانستان کی نیوز ایجنسی آریانا کی ویڈیو رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکا نے2001سے اب تک دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر افغانستان میں عام تباہی پھیلانے والے متعدد ہتھیاروں کا استعمال کیا، کمزور ممالک میں امریکا کی موجودگی اور ان پر قبضہ جمانے کا ایک مقصد ایسے نئے اور تباہ کن ہتھیاروں کا تجربہ کرنا ہے جن کے تجربات امریکا اور یورپی ملکوں میں ان کے نامعلوم اثرات یا دوسری وجوہات کی بنا پر نہیں کیے جاسکتے ، ویڈیو اسٹوری میں افغانستان میں امریکی جرائم کے بعض گوشوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور جنگ زدہ افغانستان میں نسل کشی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مناظر دکھائے گئے ہیں،رپورٹ کے مطابق امریکی فوجیوں کی جانب سے استعمال کیے گئے بعض تباہ کن ہتھیاروں اور بموں میں ڈی پلیٹڈ یورینیم کا استعمال بھی کیا گیا جوشہریوں میں سرطان اور دوسری نامعلوم بیماری کا سبب بن رہا ہے، ننگر ہار کے شہر آچین میں جدید ترین تباہ کن بم ” مدر آف آل بم” کا استعمال کیا گیا، کابل میں ایک سال کے دوران چار سے پانچ شدت کے کئی زلزے ریکارڈ کیے جا چکے ہیں، جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ امریکی ہتھیاروں کے تجربات کے نتیجے میں ایسا ہوا ہے، افغانستان کی زرعی زمینیں، قدرتی حیات اور معدنیات بھی امریکیوں کے شر سے محفوظ نہیں رہے،افغانستان میں خفیہ جیلوں کا قیام، وہاں رکھے جانے والے قیدیوں کا بطور ‘لیب اینمل’ استعمال اور ان پر نامعلوم اشیا اور مواد کا تجربہ، امریکی فوجیوں کے مجرمانہ اقدامات کی فہرست میں شامل ہے


































