
جنگ ختم کرکے ہی فوجیوں کو واپس بلایا جا سکتا ہے، اس بات کا یقین ضروری ہے کہ افغانستان دہشت گردوں کیلئے محفوظ پناہ گاہ نہیں رہا ،امریکی وزیرخارجہ
یکم مئی کی ڈیڈلائن پر عمل ہوتا نظرنہیں آتا،طالبان بھی آماد ہ ہوگئے، امریکی میڈیا، امریکی انخلا کے بعد بھی افغان فورسز قدم جما سکتی ہیں،افغان وزیرداخلہ
کابل(نیوز ڈیسک) طالبان کی شدید مخالفت کے باوجود امریکا نے افغانستان میں فوج برقرار رکھنے کا اعلان کردیا، امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلنکن نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے اجلاس میں کہا ہے کہ دوحہ سمجھوتے کی بنیاد پر بائیڈن انتظامیہ نے افغانستان سے فوجیوں کو واپس بلانے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے ، جنگ کا خاتمہ کر کے ہی امریکی فوجیوں کو واپس بلایا جا سکتا ہے اس لئے کہ اس بات کا یقین حاصل ہونا ضروری ہے کہ افغانستان اب دہشت گردوں کے لئے محفوظ پناہ گاہ نہیں رہا ہے،اس سے پہلے امریکی میڈیا نے رپورٹ دی تھی کہ افغانستان سے امریکی فوج کامکمل انخلا تاخیر کا شکار ہونے کا خدشہ ہے اور اس حوالے سے یکم مئی کی ڈیڈلائن پر عمل ہوتا نظرنہیں آتا ،جوبائیڈن انتظامیہ شراکت اقتدار سے متعلق تجویز پر عمل کے لیے ڈیڈ لائن بڑھانا چاہتی ہے ، میڈیا نے دعوی کیا ہے کہ طالبان کی جانب سے بھی نئی ٹائم لائن پر آمادہ ہونے کا امکان ہے،افغان وزیر داخلہ مسعود اندرابی نے کہا ہے کہ ملک سے امریکی فوج کے انخلا کے بعد بھی افغان سیکیورٹی فورسز اپنے قدم جما سکتی ہیں، انہوں نے امریکا کی جانب سے اس تنبیہہ کو چیلنج کیا جس میں پیش گوئی کی گئی تھی کہ امریکی فوج کی واپسی کی صورت میں طالبان تیزی سے مختلف علاقوں پر قبضہ جما لیں گے


































