
ہم سب انسان خاص طور پر والدین نصیحت کرنا پسند کرتے ہیں۔ شاید اس کی ایک دلیل یہ ہے کہ یہ سب سے سادہ راستہ ہے جو ہمارے ذہن میں کسی کو سمجھانے کا آتا ہے۔ البتہ نصیحت کرنے کی اہمیت میں کوئی شک نہیں، لیکن اس کا طریقہ بھی بہت اہم ہے ہم اکثر نصیحت کلامی کو مد نظر رکھتے ہیں اور نصیحت کے دوسرے طریقوں کو بھول جاتے ہیں۔ جیسے عمل میں نصیحت۔۔۔
نصیحت کے طریقوں کے علاوہ، کس وقت نصیحت کی جائے یہ بھی بہت اہم ہے۔ ہم اکثر کوئی خاص اتفاق جو ہمارے پسند کے مطابق نہ ہو فورا نصیحت کرنا شروع کر دیتے ہیں مثلا اگر ہمارا بچہ کہے مجھے مدرسہ یا اسکول اچھا نہیں لگتا تو ہم فورا شروع ہو جاتے ہیں کہ نہ پڑھنے کی وجہ سے تمہاری پوری زندگی کیسے برباد ہوگی اس کے سامنے پوری ایک تصویر مجسم کر لیتے ہیں۔
یا ایک رات اگر وہ کہے میں برش نہیں کروں گا تو فورا اس کے سامنے مستقبل کی ایک بغیر دانتوں یا خراب دانتوں والی تصویر اس کے ذہن میں بنالیتے ہیں۔
یہ مسئلہ نوجوان کے ساتھ ارتباط برقرار کرنے میں، بحث و لڑائی کا باعث بنتا ہے کیونکہ ہر دو اچھا احساس نہیں رکھتے۔ والدین غصہ، ڈر پریشانی اور ہمدردی کے احساس کے ساتھ اپنی بات بتانے لگتے ہیں
جبکہ نوجوان یہ سوچ رہا ہوتا ہے کہ میرے احساسات کو درک نہیں کیا جا رہا۔ اس طرح یہ ارتباط کلامی بے نتیجہ ہوتا ہے۔
بس پھر یہ نصیحتیں، یہ باتیں یہ تجربیات یہ نمونہ عمل۔۔۔ ہم کب بیان کریں کہ اس کا اثر نظر آئے؟؟
یہ اس وقت بیان کریں، جب نوجوان کا ذہن مشغول نہ ہو (جذباتی حالت میں نہ ہو) بلکہ وہ پرسکون ہو اور اس موضوع کے بارے میں سوچ سکے مثلا اگر بیٹے کو کسی چیز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے. سب سے بدترین وقت وہ ہے جب فورا شکست کے بعد ہم اس کو نصیحت کرنا شروع کریں.(تمہیں ایسا کرنا چاہیے تھا ویسا کرنا چاہیے تھا)
بلکہ جب جذبات کا غلبہ ختم ہوجائے، پرسکون ہو، تب نصیحت کی جائے۔
خاص طور پر نوجوانی کی عمر میں ایک اور طریقہ نصیحت کرنے کا یہ ہے کہ ہم اپنے عمل سے نصیحت کریں اور اپنی آئیڈیالوجی کو عمل سے اس میں منتقل کریں۔
مثلا وہ کوئی کتاب پڑھ رہا ہے تو ہم اس کے بارے میں بات کریں اس کے ہیرو کی جگہ خود کو رکھ کر دیکھیں اور کہیں اگر میں ہوتی یا ہوتا تو ایسا کرتا۔
یا روز مرہ جو اتفاقات پیش آتے رہتے ہیں اس کے بارے میں بات کریں۔
پورے دن میں یا کم از کم پورے ہفتے میں بہت آسانی سے ایسے مواقع ہم ڈھونڈ سکتے ہیں جو ارتباط کلامی کا سبب بنیں۔
ایسی باتیں جو پرسکون حالت میں ہم اپنے نوجوان سے کریں


































