Sat Oct 10, 2026

ٹرمپ کی پھر رسوائی، امن کا نوبل انعام انسانی حقوق کی وکیل ناوی پلے کے نام آبنائے ہرمز میں ایل پی جی گیس بردار جہاز پر حملہ، آگ لگ گئی سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ اسرائیل کو ایران پر ممکنہ حملے کیلئے تیار رہنے کی ہدایت ایران کے حملوں کے بعد امریکی فوج نے کویت کا اہم اڈہ خالی کر دیا بھارت پاکستان میں دہشت گردی کیلئے طالبان کی مدد کر رہا ہے: جواد اجمل شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوج بھیجنے پر غور پیوٹن کا ایران کی تاریخی اور غیر معمولی ثابت قدمی کا خیرمقدم ایران کی لبنان میں جنگ کے متاثرین کیلئے حزب اللہ کو 20 کروڑ ڈالر کی امداد

روزانہ کی خبریں

کسی کا بْرا مت کرو

ایک بادشاہ بہت ظالم اور جابر تھا۔ اسکے ظلم کے قصے سارے ملک میں مشہور تھے، لوگ اس سے نفرت کرتے تھے اور اس کا نام آتے ہی لوگ کانپتے تھے.
ایک دن جانے کیا ہوا بادشاہ نے سارے شہر کو مدعو کیا کہ ایک اہم اعلان کرنا ہے۔ جب سب لوگ جمع ہو گئے تو بادشاہ نے اعلان کیا کہ میں ساری رعایا کی موجودگی میں وعدہ کرتا ہوں کہ آج کے بعد کبھی کسی کے ساتھ ناانصافی اور سختی نہیں کروں گا اور صرف شفقت اور نرمی سے پیش آؤ گا اور تاریخ میں میرا نام سب سے نرم دل بادشاہوں میں شمار کیا جائے گا…
سب لوگ بہت حیران ہوئے کہ شاید بادشاہ سٹھیا گیا ہے، اس کو اچانک کیا ہو چلا ہے۔ خیر سب نے سوچا کہ بس ایسے ہی بول رہا ہے۔ وقت بتائے گا کہ یہ بدلا ہے کہ نہیں.لیکن بادشاہ واقعی بالکل بدل گیا تھا اور ساری عوام اس سے نہایت خوش اور مطمئن تھی۔کئی مہینے اسی طرح گزر گئے.
وزیر سے مزید صبر نہ ہوسکا تو ایک دن ہمت کرکے بادشاہ سے پوچھا؛ کہ بادشاہ سلامت آخر کس وجہ سے آپ کا دل بدل گیا؟
بادشاہ بولا:بدلنے سے کچھ دن پہلے کی بات ہے کہ میں جنگل میں جا رہا تھا کہ میری نظر ایک لومڑی پر پڑی، وہ بیچاری بھاگ رہی تھی اس کے پیچھے ایک بڑا سا کتا لگا ہوا تھا۔ لومڑی کو اپنا بل نظر آگیا اور وہ اس میں چھلانگ لگا رہی تھی کہ کتے نے اس کی ٹانگ پکڑ لی اور کاٹ لیا۔ لومڑی نے پوری جان لگائی اور اپنی معزور ٹانگ گھسیٹ کر بل میں گھس گئی۔ اس کتے نے بیچاری لومڑی کو معزور کردیا تھا..
کچھ دیر بعد میں گاؤں میں پہنچا تو دیکھا کہ وہی خونخوار کتا ایک آدمی پر بھونکے جا رہا تھا۔ اس آدمی کو غصہ آگیا اور اس نے ایک بھاری پتھر کْتے کو دے مارا. کتا خود بھی اسی طرح ٹانگ سے معزور ہو گیا..میں ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ اوپر والے کی لاٹھی بے آواز ہے کہ یہ آدمی آگے جا کر ایک گڑھے میں گر گیااور اس کی بھی ایک ٹانگ فارغ ہو گئی..
اتنا دیکھ کر ہی میری حالت غیر ہو گئی اور میں نے سوچا کہ میں اتنا ظالم ہوں، ہر ایک پر ظلم کرتا ہوں۔ کسی کی پرواہ نہیں کرتا تو میرا خالق میرے ساتھ بھی وہی کرے گا جو میں اس کی مخلوق کے ساتھ کرتا ہوں تو ایک ہی ترکیب سجھائی دی کہ کیوں نہ میں اپنی رعایا کے ساتھ اچھا ہو جاؤں تاکہ میرے ساتھ بھی اچھا ہو۔ بس اتنی سی بات تھی۔
پیارے بچوں یاد رکھو!
جیسی کرنی ویسی بھرنی۔کسی کے ساتھ بْرا کرکے یہ مت سمجھو کہ کسی نے نہیں دیکھا میں بچ گیا، جو دیکھ رہا ہے، وہ جب پکڑ کرتا ہے تو بڑے سے بڑا سْلطان گھٹنے ٹیک دیتا ہے۔اچھا کرو اور صِلے کی امید لوگوں سے مت رکھو اور برا کرو تو یاد رکھو کہ اگر پکڑ ہوگئی اور رسّی کھینچ لی گئی تو کہیں پناہ نہیں ملے گی۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular