تحریر۔ ابوفجر،لاہور
جماعت اسلامی کے سابق امیر قاضی حسین احمد کی 6 جنوری کو ساتویں برسی منائی جا رہی ہے۔ قاضی حسین احمد مرحوم پاکستانی سیاست کی ایسی مدبر شخصیت تھے، جن کا احترام ساری جماعتیں کرتی تھیں۔ ان کے ادوار مین دینی جماعتوں کو جزوی اقتدار بھی ملا۔ قاضی حسین احمد 12 جنوری 1938ء کو خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ میں پیدا ہوئے۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد جہانزیب کالج سیدو شریف میں بحیثیت لیکچرار تین برس تک پڑھاتے رہے۔ اس کے بعد ملازمت جاری نہ رکھ سکے اور پشاور میں اپنا کاروبار شروع کر دیا۔ اس دوران قاضی حسین احمد سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر منتخب ہوئے۔
دورانِ تعلیم اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان میں شامل رہنے کے بعد قاضی حسین احمد 1970ء میں جماعت اسلامی کے رکن بنے اور 1978ء میں جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل منتخب ہوگئے اور 1987ء میں جماعت اسلامی پاکستان امیر منتخب کر لیے گئے۔ قاضی حسین احمد 1985ء میں چھ سال کیلئے سینیٹ آف پاکستان کے ممبر منتخب ہوئے۔ 1992 میں وہ دوبارہ سینیٹر منتخب ہوگئے، تاہم انہوں نے حکومتی پالیسیوں پر احتجاج کرتے ہوئے بعد ازاں سینیٹ کی نشست سے استعفٰی دے دیا۔ 2002ء کے عام انتخابات میں قاضی حسین احمد دو حلقوں سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1988ء میں آئی جے آئی کا حصہ رہے۔
1999ء میں بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کی لاہور آمد پر جماعت اسلامی نے قاضی حسین احمد کی قیادت میں احتجاج کیا۔ احتجاج کی پاداش میں قاضی حسین احمد سمیت جماعت اسلامی کے درجنوں کارکن اور قیادت کو پابند سلاسل کیا گیا۔ قاضی حسین احمد مرحوم نے 1993ء میں اسلامک فرنٹ اتحاد بنایا، ”ظالمو قاضی آرہا ہے“ کا نعرہ اس وقت نہایت مقبول ہوا۔ 2002ء میں دینی جماعتوں کا اتحاد متحدہ مجلس عمل مولانا شاہ احمد نورانی کی قیادت میں سابق صدر پرویز مشرف کی امریکہ نواز پالیسیوں کیخلاف وجود میں آیا تو اتحاد کے سیکرٹری جنرل قاضی حسین احمد کو بنایا گیا۔ مولانا شاہ احمد نورانی کی وفات کے بعد قاضی حسین احمد کو اتفاق رائے سے اس کا صدر چن لیا گیا۔
2002ء کے انتخابات مین متحدہ مجلس عمل کو خاطر خواہ کامیابی حاصل ہوئی اور ایم ایم اے نے بلوچستان اور کے پی کے میں حکومتیں بنائیں، جبکہ مرکز میں اپوزیشن لیڈرشپ ایم ایم اے کو ملی۔ قاضی حسین احمد پاکستان سمیت دنیا بھر میں مظلوم کشمیریوں کی آواز بنے، انہی کی کوششوں کے نتیجے میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے پانچ فروری کو یوم کشمیر منانے کا نواز شریف کے دورِ حکومت میں اعلان کیا گیا اور آج تک یوم یکجہتی کشمیر منایا جاتا ہے۔ قاضی حسین احمد اقبالیات پر مضبوط گرفت رکھتے تھے۔
قاضی حسین احمد کو اپنی مادری زبان پشتو کے علاوہ اردو، انگریزی، عربی اور فارسی پر بھی عبور حاصل تھا۔ تحریک نظام مصطفٰی کے دوران گرفتاری کے علاوہ افغانستان پر امریکی حملوں اور یورپ میں پیغمبرِ اسلام کی شان میں گستاخی پر مبنی خاکوں پر احتجاج کے دوران انہیں گرفتار کیا گیا۔ دوران گرفتاری انہوں نے متعدد اہم مقالہ جات لکھے، جو بعد میں کتابی صورت میں شائع ہوئے۔ 6 جنوری 2013ء کو اسلام آباد میں ہارٹ اٹیک ہوا اور وہ دنیائے فانی سے کْوچ کرگئے۔ قاضی حسین احمد کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ قاضی حسین احمد جماعت اسلامی کے واحد امیر رہے، جو پانچ مرتبہ امارت کے عہدے پر فائز ہوئے۔


































