امریکا نے عراق جنگ پر اپنے ٹیکس دہندگان کے 20 کھرب ڈالر پھونک دیے
واشنگٹن (نیوز ڈیسک) امریکا نے عراق جنگ پر اپنے ٹیکس دہندگان کے 20 کھرب ڈالر پھونک دیے، اس بات کا انکشاف جنگی اخراجات کی مشترکہ ڈائریکٹر نیٹا کرافورڈ نے اپنے نئے تخمینے میں کیا، نیوزویک کی رپورٹ کے مطابق عراق جنگ ہر امریکی ٹیکس دہندہ کو 8ہزار ڈالر میں پڑی، یہ تخمینہ پینٹاگون کے تخمینے سے کہیں زیادہ ہے جس میں عراق اور شام میں ہر امریکی ٹیکس دہندگان کے 3907 ڈالر اخراجات کا اندازہ لگایا گیا تھا، مارچ 2019 میں محکمہ دفاع نے دعویٰ کیا تھا کہ عراق، افغاستان اور عراق جنگ میں امریکی ٹیکس دہندہ کے 7623 ڈالر خرچ ہوئے ہیں، براؤن یونیورسٹی کے توسط سے تحقیق میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کے بعد امریکی جنگوں کے انسانی، معاشی اور سیاسی اخراجات کا تخمینہ لگایا گیا ہے، شریک ڈائریکٹر اسٹیفنی سیول نے کہا کہ جب جنگ سے متعلقہ اخراجات کی بات ہو تو امریکیوں کے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ ان کے ٹیکس کی رقم کہاں خرچ کی گئی،اب امریکی شہری دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر عراق اور دیگر جگہوں پر امریکی فوجی موجودگی کی خوبیوں پر بحث کرتے ہیں تو انہیں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جنگ کے اخراجات ان کی سوچ سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔
- Home
- بین الاقوامی خبریں
- مشرق وسطی
- عراق جنگ، ہر امریکی ٹیکس دہندہ کے 8 ہزار ڈالر…


































