
تمام افراد كے مالى وسائل اور آمدنى يكساں نہيں ہوتى۔ سب ايک معيار كے مطابق زندگى نہيں گزار سكتے۔
ہر خاندان كو اپنى آمدنى اور اخراجات كا حساب خود كرنا چاہیے اور اپنى آمدنى كے مطابق خرچ كرنا چاہیے۔
زندگى ہر طرح گزارى جا سكتى ہے لیکن دوسروں سے مقابلہ نہ كيجیے۔ اگر كسى عورت كو نئے ڈيزائن كا لباس پہنے ہوئے ديكھا ہے اور آپ كى مالى حالت اس بات كى اجازت نہيں ديتى كہ آپ بھى ويسا ہى لباس خريد سكيں تو اپنے شوہر كو اسے خريدنے کے لیے مجبور نہ كيجیے۔
ایک دوسرے سے پیار محبت كا اظہار كر كے اپنے گھر كے ماحول كو خوشگوار اور پر مسرت بنائیے۔ دوسروں كى زندگى سے آپ كو كوئي سروكار نہيں ہونا چاہیے۔
اپنى آمدنى كے مطابق خرچ كيجیے اور انس و محبت كى نعمت سے لطف اٹھائیے اور اپنے شوہر اور بچوں سے ہنس مکھ کر بولیے۔
پيغمبر اكرم صلى اللہ عليہ و آلہ وسلم فرماتے ہيں* كہ جو عورت اپنے شوہر کے ساتھ گزارا نہيں كرتى اور جو چيزيں اس كى استطاعت سے باہر ہوں ان كے لیے اسے مجبور كرتى ہے ايسى عورت كے اعمال خدا كى بارگاہ ميں قبول نہيں ہوتے اور قيامت كے روز وہ خداوند عالم كے غیظ و غضب كا شكار ہوتى ہیں۔


































