جنگ بندی ختم ہوتے ہی طالبان کے ہلمند اور ہرات میں بڑے حملے، افغان فورسز اور طالبان کے درمیان جھڑپیں ، 21 طالبان جنگجو ہلاک اور درجنوں زخمی
کابل میں مسجد کے اندر بم دھماکا، 12 نمازی جاں بحق ، قندھاراورقندوز میں بارودی سرنگ کے دھماکے، 9 افراد ہلاک، 17 زخمی، خواتین اور بچے بھی شامل
کابل (نیوز ڈیسک) افغانستان میں عید پر تین روزہ جنگ بندی کے خاتمے کے بعد طالبان اور سرکاری فورسز میں دوبارہ جھڑپوں کا آغاز ہوگیا، جبکہ خونریز ی کا سلسلہ بھی پورے ہفتے جاری رہا، دہشت گردی کے واقعات میں افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے ،دارالحکومت کابل کی مسجد میں دھماکے کے نتیجے میں امام سمیت 12 نمازی جاں بحق ہوگئے، دھماکاکابل کے ضلع شکر درہ میں نماز جمعے کی ادائیگی کے دوران کیا گیا قندھار میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں 7 افراد ہلاک اور 3 زخمی ہوئے جب کہ قندوز میں ہونے والے بارودی سرنگ کے دھماکے میں 2 افراد ہلاک اور 14 زخمی ہوگئے،ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں ،ادھر جنوبی صوبے ہلمند میں طالبان اور حکومتی فورسز کے درمیان جھڑپیں دوبارہ شروع ہو گئیں ، طالبان جنگجووَں نے دارالحکومت لشکر گاہ کے مضافاتی علاقے کی چیک پوسٹوں اور بعض دیگر اضلاع پر حملے کیے ہیں ،مقامی انتظامیہ کا دعوی ہے کہ اس حملے میں 21 طالبان جنگجو ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں ، ہرات کے ضلع اوبہ میں افغان فورسز اور طالبان کے درمیان شدید جنگ جاری ہے، طالبان نے ضلع اوبہ کو صوبے کے دیگر علاقوں سے ملانے والا پل کو تباہ کردیا ہے، حملے میں طالبان کمانڈر سمیت تین حملہ آور ہلاک ہوگئے، طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ الزام ہم پر نہ عائد کیا جائے، پہلے حکومتی فورسز نے حملے کا آغاز کیا تھا، طالبان نے عید کے موقع پر تین روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا جس کی معیاد16مئی کو ختم ہو گئی تھی ، افغان صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ افغان فورسز امریکی افواج کے انخلا کے بعد ملک کادفاع کرنے کے لئے تیار ہیں ، طالبان کو ایسا سیاسی نظام تسلیم کرنا ہوگا جسکی بنیاد انتخابات پر ہو۔
- Home
- بین الاقوامی خبریں
- ایشیا
- افغانستان میں امن ناپید، جھڑپیں ،دھماکے اور ہلاکتیں


































