تحریر: لیاقت علی انجم
گلگت بلتستان میں مسلم لیگ نون کی حکومت کی مدت اختتام کو پہنچنے والی ہے، 2020ء الیکشن کا سال ہوگا لیکن جی بی میں الیکشن کس قوانین کے تحت ہوں گے؟ نگران حکومت کا قیام کیسے عمل میں لایا جائے گا؟ اس حوالے سے قانون موجود ہی نہیں جبکہ آرڈر 2018ء اور آرڈر 2019ء خاموش ہیں، جہاں نگران حکومت کے حوالے سے یہ دونوں آرڈرز خاموش ہیں، وہاں گلگت بلتستان میں الیکشن ایکٹ 2017ء ابھی تک لاگو نہیں ہوسکا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جی بی میں الیکشن کے انعقاد اور نگران حکومت کے قیام کیلئے کوئی قانون سرے سے ہی موجود نہیں۔ گذشتہ الیکشن کے انعقاد کیلئے جن قوانین کو یہاں نافذ کیا گیا تھا، پارلیمنٹ سے الیکشن ایکٹ 2017ء کی منظوری کے بعد وہ تمام ختم ہوچکے ہیں۔ اس سے پہلے 2015ء کے الیکشن میں آرڈر 2009ء میں ترمیم کرکے نگران حکومت اور الیکشن کے انعقاد کی شق ڈالی گئی تھی۔
چیئرمین کونسل نے 17 اپریل 2015ء کو ایک نوٹیفیکیشن جاری کرکے عوامی نمائندگی ایکٹ 1976ء کے تحت گلگت بلتستان میں 8 جون 2015ء الیکشن ڈے مقرر کیا تھا۔ 9 دسمبر 2014ء کو آرڈر 2009ء کے آرٹیکل 33 میں ترمیم کرکے ایک شق شامل کی گئی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ چیئرمین کونسل یعنی وزیراعظم پاکستان اپوزیشن لیڈر جی بی اسمبلی، وزیراعلیٰ اور وزیر امور کشمیر کی مشاورت سے نگران وزیراعلیٰ کا تقرر کرینگے، اگر یہ تینوں کسی بھی ایک نام پر متفق نہیں ہوتے تو چیئرمین کونسل اپنے صوابدیدی اختیارات استعمال کرکے کسی بھی شخص کو نگران وزیراعلیٰ مقرر کرسکتا ہے۔ ترمیم میں یہ نکتہ بھی شامل کیا گیا تھا کہ اگر مقررہ مدت میں الیکشن نہیں ہوتے تو چیئرمین کونسل مزید نوے دن تک توسیع دے سکتا ہے۔
2015ء کے انتخابات کیلئے پاکستان کے الیکشن آرڈر 2002ء کو لاگو کیا گیا تھا جبکہ عوامی نمائندگی کا ایکٹ 1976ء، حلقہ بندیوں کا ایکٹ 1974، انتخابی نشان آرڈر 2002ء کو بھی لاگو کیا گیا تھا، تاہم 2017ء میں ان تمام ایکٹ کو ختم کرکے نئے انتخابی اصلاحات کے تحت پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر الیکشن ایکٹ 2017ء کو منظور کر لیا اور اسی ایکٹ میں تمام امور کو شامل کر لیا گیا۔ 2017ء کا الیکشن ایکٹ جی بی میں لاگو ہی نہیں کیا گیا جبکہ آرڈر 2018 ء اور 2019ء میں اس حوالے سے کوئی شق شامل نہیں ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اس وقت صوبے میں تقرریاں، تبادلے اور اہم فیصلے آرڈر 2018ء کے تحت ہو رہے ہیں، جبکہ سپریم کورٹ نے 17 جنوری 2019ء کے اپنے فیصلے میں نیا آرڈر جاری کیا اور ایک ہفتہ کے اندر لاگو کرنے کا حکم بھی دیا، لیکن یہ آرڈر ابھی تک لاگو نہیں ہوسکا۔ قانونی ماہرین کے مطابق آئینی طور پر اس وقت سپریم کورٹ کا فیصلہ نافذ العمل ہے، کیونکہ عدالت کا فیصلہ اسی دن ہی لاگو ہو جاتا ہے۔
وفاقی حکومت گیارہ ماہ گزرنے کے با?جود بھی سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد میں ناکام رہی اور دوسری طرف سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کرکے فیصلے پر عملدرآمد کیلئے مزید وقت مانگ لیا۔ دریں اثناء گلگت بلتستان کے سینیئر وکلاء نے بھی سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرکے آرڈر 2019ء پر فوری عملدرآمد کا مطالبہ کیا، جس کے نتیجے میں یہ آرڈر ایک بار پھر سپریم کورٹ کے ٹیبل پر موجود ہے اور عدالتی فیصلے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ جوڈیشل آرڈر میں ترمیم خود سپریم کورٹ کی اجازت کے بغیر ممکن نہیں، دوسری طرف یہ آرڈر ایک بار پھر عدالت میں ہے اور اس پر کب کوئی فیصلہ آتا ہے، یہ اندازہ لگانا قبل ازوقت ہے۔ دو ہزار اٹھارہ کا آرڈر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد نافذ نہیں ہوسکتا، گویا گلگت بلتستان کو ایک عجیب صورتحال کا سامنا ہے اور قانون کے بغیر ہی صوبے کا پورا نظام ریمورٹ کنٹرول سے چل رہا ہے۔


































