چاندہماری زمین کا قدرتی سٹیلائٹ ہے۔ اس کی اہم خصوصیات درج ذیل ہیں ۔
چاند کی گردش:
چاند زمین کے گرد بھی گردش کرتا ہے اور سوج کے گرد بھی۔ البتہ چاند کا مہور سورج کے متوازی ہے اس لئے اس کا ایک حصہ ہمیشہ سورج کی طرف رہتا ہے اور ایک حصہ تاریکی میں ۔ یہ زمین کے گرد قریباً 28دنوں میں ایک چکر مکمل کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قمری سال 365دنوں کی بجائے 355دن کا ہوتا ہے۔
چاند کی روشنی
چاند روشن نہیں ہے بلکہ روشنی کے لئے یہ سورج کا محتاج ہے۔
چاند کی ساخت
چاند بھی انہی چٹانوں سے بنا ہے جن چٹانوں سے زمین بنی ہے۔ تاہم چاند کی چٹانیں زمین کی چٹانوں کے مقابلے میںہلکی ہیں ۔ چاند پر بڑے بڑے گڑھے موجود ہیں ۔ یہ گڑھے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ چاند پر شروع شروع میں بہت سے آتش فشاں پہاڑ پھٹے اور زلزلے آتے رہے۔
چاند کی شکلیں
مختلف راتوں میں چاند شکلیں بدلتا رہتا ہے۔ اس کی اہم شکلیں درج ذیل ہیں ۔
ہلال :پہلی رات کے چاند کو ہلال کہتے ہیں ۔ یہ بہت باریک ہوتا ہے۔
بدر: چودھویں رات کے چاند کو بدر کہتے ہیں ۔ یہ پورا چاند ہوتا ہے اور اس کی روشنی بہت زیادہ ہوتی ہے۔
آدھا چاند:چودھویں رات کے بعد چاند پھر گھٹنا شروع ہو جاتا ہے اور اکیسویں رات کو آدھا چاند نظر آتا ہے۔
اماوس کی رات:قمری مہینے کی آخری رات کو چاند بالکل نظر نہیں آتا۔ یہ رات اماوس کی رات کہلاتی ہے۔
چاند اور اسلامی تہوار
اسلامی کیلنڈر کا تعلق قمری سال سے ہے اور تمام اسلامی تہوار مثلاً عید الفطر، عیدالاضحی ، شب برات، شب معراج ، شب قدر وغیرہ قمری مہینوں کے حساب سے منائے جاتے ہیں ۔


































