
ممتاز ایرانی سائنسدان محسن فخری زادہ کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنا کر شہید کر دیا گیا۔
ایرانی دارالحکومت تہران کے شمال میں واقع "آبسرد” نامی شہر میں ایرانی وزارت دفاع کے ذیلی ادارے ریسرچ اینڈ انوویشن انسٹیٹیوٹ کے سربراہ محسن فخری زادہ کو ایک ٹارگٹ کلنگ کی کارروائی میں شہید کر دیا گیا۔ محسن فخری زادہ امریکی مجلے فارن پالیسی کے مطابق اُن 5 ایرانی شخصیات میں سے ایک تھے، جنہیں دنیا کی موثر ترین شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں ان پر 24 مارچ 2007ء کے روز اقوام متحدہ کی جانب سے پابندیاں بھی عائد کی گئی تھیں جبکہ غاصب صہیونی وزیراعظم بنجمن نتن یاہو نے اپنی ایک کمپین میں محسن فخری زادہ کا نام لے کر دعویٰ کیا تھا کہ وہ ایرانی جوہری ٹیکنالوجی کی پیشرفت کے ذمہ دار اور اسرائیلی جاسوس تنظیم "موساد” کی جانب سے انتہائی مطلوب ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف نے ایران کے ممتاز جوہری سائنسدان کی ٹارگٹ کلنگ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہید محسن فخری زادہ کی ٹارگٹ کلنگ کی کارروائی میں غاصب صہیونی رژیم کا ہاتھ ہے۔ محمد جواد ظریف نے ٹوئٹر پر جاری ہونے والے اپنے ایک پیغام میں لکھا ہے کہ دہشتگردوں نے ایک ممتاز ایرانی سائنسدان کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا ہے جبکہ اس بزدلانہ کارروائی میں اسرائیل کے ملوث ہونے کے واضح شواہد موجود ہیں، جو اس سنگین جرم کے ذمہ داروں کے جنگی جنون کو ظاہر کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنے پیغام میں لکھا کہ ایران عالمی برادری خصوصاً یورپی یونین سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ منافقت پر مبنی اپنے شرمناک دوہرے معیارات کو ترک کرتے ہوئے فوری طور پر اس دہشتگردانہ کارروائی کی مذمت کرے!! محمد جواد ظریف نے قبل ازیں بھی اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں ریسرچ اینڈ انوویشن انسٹیٹیوٹ کے سربراہ محسن فخری زادہ کی ٹارگٹ کلنگ کی شدید مذمت کی تھی۔
ایران کی مسلح فوج کے چیف آف اسٹاف جنرل محمد باقری نے ایک بیان جاری کرکے فخری زادے کی شہادت پر تعزیت پیش کرتے ہوئے کہا کہ عالمی استعمار اور صہیونیزم سے وابستہ دہشت گردوں نے وحشیانہ حملہ کرکے ملک کے ایک بڑے محقق اور سائنسداں کو قتل کردیا۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ وزارت دفاع کے تحقیقاتی شعبے کے سربراہ شہید ڈاکٹر محسن فخری زادہ نے پوری زندگی بھر ملک کی بہت زیادہ خدمت کی اور وہ ملک کی دفاعی توانائی کو ایک قابل قبول حد تک پہنچانے میں کامیاب رہے اور اتنے بڑے سائنسداں کا قتل ملک کی دفاعی توانائی پر گہری چوٹ ہے لیکن دشمن یہ جان لیں کہ شہید فخری زادہ نے جو راستہ بنایا ہے وہ جاری رہے گا اور یہ کارروائی کرنے والے دہشت گرد اور ان کے حامی اور احکامات صادر کرنے والے یہ جان لیں کہ سخت بدلہ لیا جائے گا۔
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی فورس کے کمانڈر جنرل سلامی نے بھی ٹوئٹ کیا کہ ایٹمی سائنسداں کا قتل، ہمیں پیشرفتہ سائنس تک پہنچنے سے روکنے کے لئے تسلط پسندوں کی جانب سے پر تشدد اور واضح تصادم کی ایک شکل ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی کے مشیر اور ایران کے سابق وزیر دفاع جنرل حسین دہقان نے کہا ہے کہ ہم شہید فخری زادے کے قاتلوں پر بجلی بن کر ٹوٹ پڑیں گے۔
ایران کی اٹیمی توانائی کے ادارے کے سابق سربراہ فریدون عباسی نے کہا ہے کہ شہید فخری زادے کو امریکا میں ڈیموکریٹوں کے اقتدار میں آنے سے پہلے شہید کیا گیا کیونکہ دشمن یہ چاہتے ہیں کہ ایران پر دباؤ ڈال کر اسے مذاکرات کے لئے تیار کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دہشت گردانہ حملہ، مجھ پر اور شہید شہریاری پر حملے کے دس سال پورے ہونے کے موقع پر کیا گیا ہے اور آج سے 12 سال پہلے بھی شہید فخری پر حملے کے لئے دہشت گردوں کی ایک ٹیم بھیجی گئی تھی تاہم سیکورٹثی اہلکاروں نے اسے ناکام بنا دیا تھا۔
فریدون عباسی نے بتایا کہ دشمن گزشتہ 15 سالوں سے شہید فخری کے قتل کی کوشش میں تھا۔
واضح رہے کہ اسرائیل کے وزیر اعظم نتن یاہو نے دو سال پہلے محسن فخری زادے کا نام لیا تھا جس کے بعد اسرائیلی میڈیا نے بتایا تھا کہ موساد نے بہت پہلے محسن فخری زادے کے قتل کی کوشش کی تھی تاہم وہ کوشش ناکام ہوگئی تھی۔


































