تحریر: ایل اے انجم
کسی بھی ملک کو معاشی ٹائیگر بنانے کیلئے مہاتیر محمد کی مثال دی جاتی ہے، جنہوں نے ملائیشیاء کو ایشیاء کا ٹائیگر بنا دیا۔ عمران خان بھی ملائشین ماڈل سے کافی متاثر ہیں اور وہ کئی مواقع پر ڈاکٹر مہاتیر محمد کی مثالیں دیتے رہے ہیں۔ ڈاکٹر مہاتیر بائیس سال تک (2003ء -1981ء) ملائیشیا کے وزیراعظم رہے، بائیس سالہ دور حکومت میں انہوں نے ملک کو ایشیاء کی ایمرجنگ معاشی طاقت بنا دیا۔ 1997ء میں ایک سازش کے تحت ملایشیاء کی کرنسی کی قدر اچانک گر کر تقریباً آدھی رہ گئی، اس پر مہاتیر محمد نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ سارے اسلامی ممالک سونے کا دینار خود بنائیں اور آپس کی لین دین کے لیے امریکی ڈالر کی بجائے سونے کا دینار استعمال کریں۔ مہاتیر محمد نے اعلان کیا تھا کہ 2003ء کے وسط تک وہ یہ دینار جاری کر دیں گے۔ ظاہر ہے کہ اگر ایسی سونے کی کرنسی میں لین دین کا رواج آگیا تو شرح تبادلہ کی ضرورت ختم ہو جائے گی، جس پر مغربی ممالک کی ثروت کا انحصار ہے۔ اس لیے 2003ء میں مہاتیر محمد کو 22 سالہ وزارتِ اعظمی سے ہٹا کر عبد اللہ احمد بداوی کو وزیراعظم بنایا گیا، جس نے ملکی سطح پر دینار جاری ہونے سے روک دیا۔
گذشتہ روز کوالالمپور سمٹ کے دوران جب ایران اور قطر کی جانب سے اسلامی ممالک کی مشترکہ ای کرنسی کی تجویز پیش کی گئی تو مہاتیر محمد نے پہلی فرصت میں ہی اس کی نہ صرف تائید کی بلکہ عملی اقدامات پر بھی زور دیا۔ اسلامی ممالک کو مشترکہ کرنسی کی جتنی ضرورت آج ہے، اس سے پہلے کبھی نہیں تھی۔ اس وقت دنیا کی معیشت پر ڈالر کی حکمرانی ہے اور ڈالر کی وجہ سے ہی پوری دنیا کی معیشت وائٹ ہاؤس کے کنٹرول میں ہے۔ روس اور چین جیسی طاقتیں بھی ڈالر کے مقابلے میں متبادل کرنسی پر غور کر رہی ہیں، کیونکہ وہ ڈالر گردی سے نہ صرف آگاہ بلکہ متاثر بھی ہیں۔ کسی قوم کو غلام بنانے کا سب سے کارگر طریقہ جنگ رہا ہے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ ناکام ہو جاتا ہے، کیونکہ لوگ اپنے آقاؤں سے نفرت کرتے ہیں اور موقع ملتے ہی انہیں مار بھگاتے ہیں، ایسی حکمرانی میں فوجی اخراجات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ اس دور میں حکمرانی کا کارگر طریقہ ٹیکنالوجی بھی ہے، کم از کم پونی ایک صدی تک پیشرفتہ ترین ٹیکنالوجی پر امریکہ کی اجارہ داری رہی، چونکہ ذہانت سرحدوں کی قید سے آزاد ہوتی ہے، اس لیے اب یہ اجارہ داری کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہی، چین کی تیز رفتار ترقی اور ٹیکنالوجی میں پیشرفت کی رفتار کو دیکھتے ہوئے آج کہا جا سکتا ہے کہ یہ اجارہ داری اب چین نے امریکہ سے چھین لی ہے۔
ایک انگریز مصنف پاسٹر شیلڈن ایمرے اپنی کتاب Billions for Bankers—Debts for the People میں لکھتے ہیں۔ ”آج کے اس دور میں غلام بنانے کا سب سے موثر طریقہ معاشی حکمرانی ہے۔ اس میں بظاہر کوئی زبردستی نہیں کی جاتی اور لوگوں کو غلامی کا احساس بھی نہیں ہوتا، ان سے ٹیکس یا سود قانونی طریقے سے وصول کیا جاتا ہے اور لوگ یقین رکھتے ہیں کہ اس رقم سے ان کی اپنی بہتری اور حفاظت کے کام کیے جائیں گے (آئی ایم ایف سب سے واضح مثال ہے) ان کے آقا ان کے لیڈر اور محافظ بن جاتے ہیں، یہ طریقہ اگرچہ سست رفتار ہے مگر دیرپا ہوتا ہے۔ لوگوں پر نہ مذہبی پابندی ہوتی ہے، نہ سفر کرنے کی اور نہ ہی آزاد خیالی کی۔ وہ الیکشن میں چناؤ کی بھی آزادی رکھتے ہیں۔ انہیں یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ انہیں غلام بنایا جا چکا ہے اور ان ہی کے اپنے لوگ عوام کی دولت آقاؤں تک منتقل کرتے ہیں۔” ہر چیز کا کوئی نہ کوئی متبادل ضرور ہوتا ہے، ٹیکنالوجی کا متبادل ٹیکنالوجی ہی ہے، اب چونکہ ڈالر ایک مضبوط استعماریت کی شکل بن گیا تو اس کا متبادل کرنسی ہی ہوسکتا ہے۔ کرنسی کے ہتھیار کو کرنسی سے ہی شکست دی جا سکتی ہے۔ ڈالر کے مقابلے میں متبادل اور موثر نظام متعارف ہونے کی صورت میں امریکہ کی معاشی دھونس خود بخود ختم ہو جائے گی۔
ڈالر کی دھونس کیسے قائم ہوئی؟
دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ کی معیشت تباہ ہو کر رہ گئی، جاپان پر ایٹم بم گرانے کے نتیجے میں خوفناک تباہی کے بعد دنیا پر امریکی دھونس قائم ہوئی، ساتھ ہی جنگ امریکی سرحدوں سے دور رہنے کی وجہ سے براہ راست امریکی معیشت کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ نازی جرمنی کی دیوہیکل طاقت کو کچلنے میں امریکہ سے زیادہ روس کا کردار تھا، لیکن ایک ایٹم بم نے پانسا پلٹ دیا۔ امریکہ کی یہ دھونس تب تک قائم رہی، جب تک 1949ء میں روس نے کامیاب ایٹمی تجربے کا اعلان نہیں کیا، روس کے کامیاب تجربے کے ساتھ ہی دوسرا سپر پاور بھی بن گیا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ سرد جنگ جو کہ لگ بھگ چار عشرے تک جاری رہی، کے دوران سویت یونین اور امریکہ کے درمیان ٹیکنالوجی جو کہ اکثر عسکری پیشرفتوں سے ہی منسلک تھی، کے ساتھ اقتصادی کھینچا تانی بھی جاری رہی۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ سویت یونین ایک عسکری طاقت کے ساتھ معاشی طاقت بھی تھی۔ افغان جنگ کے نتیجے میں بے پناہ فوجی اخراجات کی وجہ سے روس کی معیشت تباہ ہو کر رہ گئی اور سویت یونین کئی ریاستوں میں بکھر کر ریزہ ریزہ ہوگیا۔ روس کے پاس امریکہ کے مقابلے کی ٹیکنالوجی تو آج بھی موجود ہے، لیکن اقتصادی اور معاشی مشکلات اور مجبوریاں وہ عوامل ہیں، جن کی وجہ سے روس کی اب سویت یونین والی حیثیت نہیں رہی۔
نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آج کے اس دور میں معاشی حکمرانی مملکتوں، ریاستوں اور عوام کو غلام بنانے کا سب سے موثر طریقہ ہے۔ امریکہ دنیا بھر کی معیشتوں کو ڈالر کے ذریعے سے براہ راست کنٹرول کرتا ہے۔ بلوم برگ کی ایک رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کا سب سے موثر ہتھیار ڈالر ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ڈالر کی یہ حکمرانی کیسے قائم ہوئی، دوسرے ممالک کا ڈالر سے براہ راست کیا تعلق ہے۔ اس کو سمجھنے کیلئے پہلے ہمیں کرنسی کے بنیادی نظام کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ یہ تو معلوم ہے کہ پرانے زمانے میں تجارت سونے کے سکوں میں ہوتی تھی، اٹھارویں صدی کے بعد سے عالمی تجارت میں کاغذی کرنسی کا نظام متعارف ہوا۔ اس سے پہلے 1450ء سے 1530ء تک عالمی تجارت پہ پرتگال کا سکّہ چھایا رہا۔ 1530ء سے 1640ء تک عالمی تجارت پہ ہسپانیہ کا سکّہ حاوی رہا۔ 1640ء سے 1720ء تک عالمی تجارت ولندیزی سکّے کے زیر اثر رہی۔ 1720ء سے 1815ء تک فرانس کے سکّے کی حکومت رہی۔ 1815ء سے 1920ء تک برطانوی پاونڈ حکمرانی کرتا رہا۔
1920ء کے بعد سے برطانوی پاؤنڈ زوال کا شکار ہوا اور اس کی جگہ ڈالر نے لے لی۔ ماضی کی کرنسیوں کے برخلاف یہ سونے چاندی کی نہیں بلکہ کاغذ کی کرنسی ہے۔ کاغذی کرنسی حقیقت میں ایک ضمانت ہوتی ہے، جس پر درج مالیت کے برابر سونا یا چاندی واپس کرنے کی ضمایت ریاست کا مرکزی بنک دیتا ہے۔ مثلاً ایک ہزار روپے کے نوٹ کی اپنی کوئی حیثیت نہیں ہوتی، یہ صرف ایک کاغذ کا ٹکڑا ہے، جس کے اندر کوئی سونا یا چاندی شامل نہیں ہوتی۔ اسی لیے ہر نوٹ پر لکھا ہوا ہوتا ہے کہ حامل ہذا کو مطالبہ پر ادا کریگا۔ یعنی سٹیٹ بنک اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ آپ ایک ہزار روپے مالیت کے سونے یا چاندی کے برابر خریداری کریں، اگر نوٹ کے حامل شخص کاغذی کرنسی پر درج شدہ مالیت کے برابر سونا یا چاندی کا مطالبہ کرے تو سٹیٹ بنک اس بات کے پابند ہے کہ وہ متعلقہ شخص کو ایک ہزار روپے مالیت کا سونا یا چاندی ادا کرے۔
انیسویں صدی میں ہی کاغذی کرنسی مستحکم ہونا شروع ہوئی تھی، صنعتی انقلاب کے نتیجے میں عالمی تجارت کے پھیلاؤ کے ساتھ ایک مسئلہ عالمگیر حیثیت کے حامل کرنسی کا سامنا رہا۔ یعنی ایک ایسی کرنسی ہو، جو دنیا بھر میں چل سکے، تاکہ تجارت میں ا?سانی ہو، مختلف ممالک کے تاجروں کو متبادل کرنسیوں کے حصول میں دشواریوں کا سامنا کرنا نہ پڑے۔ سونے کے سکوں کی جگہ ضمانتی کرنسی نوٹ متعارف ہونے کے بعد متبادل کرنسیوں کے حصول میں مشکل پیش آتی رہی۔ ہر ملک کی اپنی اپنی کرنسی ہے، جو دوسرے ملک میں نہیں چل سکتی، مثال کے طور پر اگر کوئی پاکستانی جرمنی سے چیزیں خرید رہا ہے تو جرمن بیوپاری تو اپنی کرنسی یعنی یورو میں رقم مانگے گا، تاکہ وہ اپنے ملک میں خریداری کرسکے۔ چلیں اگر اس پاکستانی نے یورو یورپ کے سنٹرل بینک سے خرید کر اس جرمن بیوپاری کو رقم ادا کر دی، مگر پھر اس نے ویتنام سے بھی کپڑے خریدنے ہیں۔ اب اسے ویتنام کے سنٹرل بینک سے وہاں کی کرنسی خرید کر ادائیگی کرنی پڑے گی۔ اس طرح تو عالمی تجارت کرنا بہت مشکل ہے کہ سارا وقت یہی مسئلہ رہے گا کہ ادائیگی کیسے ہوگی۔ اسی لیے عالمی تجارت میں لوگ متلاشی ہوتے ہیں کسی ایسی کرنسی میں لین دین کے، جس کی حکومت پر انہیں سب سے زیادہ اعتماد ہو۔ اس کو عام اصطلاح میں ریزرو کرنسی کہا جاتا ہے۔
بریٹن ووڈز معاہدہ اور سکہ رائج الوقت
ڈالر کو عالمی کرنسی کی حیثیت بریٹن ووڈز معاہدے کے بعد مل گئی، بریٹن وڈز کا معاہدہ جولائی 1944ء میں نیو ہیمپشائر امریکا میں 44 ممالک کے درمیان ہونے والا ایسا معاہدہ ہے، جس کا مقصد دنیا کو ایک نیا مالیاتی اور زری نظام دینا اور جنگ زدہ ممالک کی تعمیر و ترقی تھا۔ معاہدے میں شامل ممالک نے ڈالر کو بطور سکہ رائج الوقت قبول کر لیا۔ بعد میں دیگر تمام ممالک کو بھی قبول کرنا پڑا، اسی معاہدہ کے تحت عالمی بنک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کا قیام عمل میں آیا۔ جب کوئی ایک ملک کسی دوسرے ملک کی کاغذی کرنسی پر کنٹرول حاصل کر لیتا ہے تو وہ بڑے پوشیدہ طریقے سے اْس دوسرے ملک کی معیشت، صنعت، تجارت اور دولت پر حاوی ہو جاتا ہے۔ بریٹن ووڈز معاہدے کا اصل مقصد بھی اسی طرح سے دنیا بھر پر امریکی بینکاروں کی حکمرانی قائم کرنا تھا۔ اس معاہدے کے وقت دنیا بھر کے بنکوں میں موجود سونے کے ذخائر کا 75 فیصد امریکا کے پاس تھا، اس وجہ سے امریکی ڈالر کو عالمگیر کرنسی کی حیثیت دی گئی۔
معاہدے کے تحت امریکہ ڈالر کو حکومت کے پاسموجود سونے اور چاندی کی مالیت کے برابر مقدار میں چھاپنے کا پابند تھا۔ بریٹن ووڈز ایگریمنٹ کا مقصد ہی ڈالر کو عالمی کرنسی قبول کرواتے ہوئے دنیا کے مالیاتی نظام کا کنٹرول حاصل کرنا تھا، جب یہ مقصد حل ہوگیا تو 1971ء میں صدر نکسن نے معاہدہ توڑ دیا، جس کے بعد ایسی کوئی روک ٹوک نہیں رہی، یعنی سونے اور ڈالر کے مابین کوئی تعلق نہیں رہا۔ ا?سٹریلیا کے وزیر محنت Eddie Ward نے بریٹن اووڈز کی سازش کے بارے میں جو کچھ کہا تھا، وہ سب کچھ آنے والے سالوں میں بالکل سچ ثابت ہوا۔ "مجھے یقین ہے کہ پرائیوٹ عالمی بینکار بریٹن اووڈز معاہدے کے ذریعے پوری دنیا پر اپنی ایسی مکمل اور خوفناک ڈکٹیٹر شپ قائم کرنا چاہتے ہیں، جس کا ہٹلر نے کبھی خواب بھی نہ دیکھا ہوگا۔ یہ وحشیانہ طریقے سے چھوٹے ممالک کو غلام بنا دے گی اور ہر حکومت ان بینکاروں کی دلال بن جائے گی۔ عالمی مالیاتی اداروں کا گٹھ جوڑ بے روزگاری، غلامی، غربت، ذلت اور مالیاتی تباہی میں اضافہ کرے گا۔ اس لیے ہم آزادی پسند آسٹریلویوں کو اس منصوبے کو نامنظور کر دینا چاہیئے۔”
امریکہ کے مشہور ویڈیو سیریز کے میزبان اور مصنف مائیک میلونی کہتے ہیں۔ ”ڈالر کی کل مقدار کا نصف سے زیادہ متحدہ امریکا سے باہر کے ممالک میں ہے۔ جب ہم ڈالر چھاپتے ہیں تو ہم دوسرے ممالک کی قوت خرید چْرا لیتے ہیں، جو متحدہ امریکا کو منتقل ہو جاتی ہے۔ ہمیں یہ حق حاصل ہے اور ہم نے اسے بیجا استعمال کیا ہے۔” عالمی اقتصادی پیداوار میں امریکہ کا حصہ 20 فیصد ہے جبکہ کرنسی ذخائر اور عالمی تجارت کا نصف سے زائد حصہ ڈالر میں ہوتا ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ دنیا میں جہاں بھی ڈالر استعمال ہو رہے ہیں تو بقول مائیک میلونی حقیقت میں وہ امریکہ کی قوت خرید میں اضافہ کر رہے ہوتے ہیں۔ جتنے زیادہ ڈالر دنیا میں گردش کر رہے ہوں گے، اتنا ہی امریکی معیشت کو دوام ملے گی۔ ایک اور مثال یہ ہے کہ ویتنام جنگ کے دوران امریکی معیشت سخت دباو کا شکار تھی اور افراط زر تیزی سے بڑھ رہا تھا۔ اپریل 1971ء میں جرمنی نے امریکی دباؤ میں آکر پانچ ارب ڈالر خریدے، تاکہ امریکی ڈالر کو سہارا مل سکے۔ مئی 1971ء میں جرمنی نے بریٹن ووڈ معاہدے سے ناتا توڑ لیا، کیونکہ وہ گرتے ہوئے امریکی ڈالر کی وجہ سے اپنے جرمن مارک کی قیمت مزید نہیں گرانا چاہتا تھا۔
اس کے صرف تین مہینوں بعد جرمنی کی معشیت میں بہتری آگئی اور ڈالر کے مقابلے میں مارک کی قیمت %7.5 بڑھ گئی۔ امریکی ڈالر کی گرتی ہوئی قیمت دیکھتے ہوئے دوسرے ممالک نے امریکہ سے سونے کا مطالبہ شروع کر دیا۔ سویٹزرلینڈ نے جولائی 1971ء میں پانچ کروڑ ڈالر کا 44 ٹن سونا امریکا سے وصول کیا۔ امریکا نے سفارتی دباو ڈال کر دوسرے ممالک کو سونا طلب کرنے سے روکنا چاہا، مگر فرانس نے جارحانہ انداز اپناتے ہوئے 19.1 کروڑ ڈالر امریکا سے 170 ٹن سونے میں تبدیل کروائے۔ اس طرح امریکا اور فرانس کے تعلقات خراب ہوگئے، جو آج تک بہتر نہ ہوسکے۔ ا?ج کے دور میں کوئی بھی ملک امریکہ سے ڈالر کے عوض سونے کا مطالبہ نہیں کرسکتا۔ اگر ایسا ہوا بھی تو امریکہ اس ملک کے ڈالر کی شکل میں موجود اثاثوں کو منجمد کرکے سبق سیکھا دیتا ہے۔ کاغذی کرنسی کے برعکس دھاتی کرنسی کی قدر وقت کے ساتھ بڑھتی چلی جاتی ہے۔ اسی لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اپنے رکن ممالک کو اس بات پر مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنی کرنسی کو سونے سے منسلک نہ کریں۔ اگر کوئی کرنسی سونے سے منسلک ہوگی تو آئی ایم ایف کے لیے اس کی شرح تبادلہ اپنی مرضی کے مطابق کنٹرول کرنا مشکل ہو جائے گا۔
ڈالر بطور ہتھیار
ایک اہم مثال یہ دی جا سکتی ہے کہ اگر امریکہ ڈالر کی قدر بڑھائے یا گھٹا دے تو دنیا کے درجنوں ممالک خود بخود دیوالیہ ہو جائیں گے، کیونکہ ان ممالک کے ریزوو ذخائر اور تجارت و قرضوں کا پورا نظام ڈالر کے ساتھ منسلک ہے۔ رواں سال جون میں ڈالر کی 12 روپے 13 پیسے مہنگا ہوا، جس کے نتیجے میں پاکستان کے بیرونی قرضوں میں 1273 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ یوں بیٹھے بیٹھے ملک کھربوں روپے کے مزید قرضے چڑھ گئے۔ اسی طرح کا معاشی جھٹکا 1997ء میں ملائیشیاء کو بھی لگا تھا۔ ملائیشیاء کی کرنسی کی قدر کو بھی ایک سازش کے تحت کم کرکے آدھی کی گئی۔ اسی معاشی جھٹکے کے بعد ہی مہاتیر محمد نے سونے کی اسلامی کرنسی متعارف کرنے کی تجویز دی تھی۔ اگست 2018ء میں ترک کرنسی لیرا کی قدر ڈالر کے مقابلے میں 35 فیصد گر گئی، جس کی وجہ سے ملکی معیشت جمود کا شکار ہوئی۔ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹویٹ کے ذریعے ترکی پر سٹیل اور ایلومینیم ٹیرف دگنا کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس اعلان کے بعد اچانک ترک کرنسی لیرا کی قدر گرنا شروع ہوئی اور ملک میں افراط زر کی شرح میں خوفناک حد تک اضافہ ہوا۔ اردگان نے اس صورتحال کو ترک معیشت کیخلاف سازش اور ایک منظم آپریشن سے تعبیر کیا۔
ڈالر بطور ہتھیار
کہا جاتا ہے کہ کاغذی کرنسی موجودہ دور کا سب سے بڑا مالیاتی فراڈ ہے۔ بریٹن ووڈز ایگریمنٹ کے بعد دنیا بھر میں ڈالر کی جہاں چودھراہٹ قائم ہوئی، وہاں سافٹ وار میں ایک اہم اوزار امریکہ کے ہاتھ لگ گیا۔ امریکہ اپنے قوانین کے تحت ہر اس ملک پر جرمانہ کرسکتا ہے، جس نے امریکی کرنسی میں تجارت کی ہو، جس کی ایک مثال یہ ہے کہ جنوبی افریقہ کی کمپنی BNP Paribas پر محض اس جرم میں 9 ارب ڈالر کا جرمانہ کیا کہ اس کمپنی نے ایران، کیوبا اور سوڈان کے ساتھ بزنس کیا تھا، روس، چین سمیت کئی یورپی کمپنیاں بھی ڈالر گردی کا نشانہ بن چکی ہیں۔ کسی بھی بین الاقوامی بینک کو امریکی حکومت بلیک میل کرسکتی ہے، تاکہ وہ امریکی حکومت کے احکامات مانے، کیونکہ امریکا میں بینکنگ کی اجازت کا لائسنس منسوخ کرنا یا امریکی ڈالر میں کاروبار سے روکنا اس بینک کو دیوالیہ کرسکتا ہے۔ عالمی مالیاتی اثاثوں کی منتقلی کا 80 فیصد ڈالر کی شکل میں ہوتا ہے اور (SWIFT (Society for Worldwide Interbank Financial Telecommunication کے ذریعے انجام پاتا ہے۔
اگرچہ SWIFT کا مرکزی دفتر برسلز میں واقع ہے مگر اس پر امریکا کا مکمل کنٹرول ہے، چونکہ امریکا کسی بھی ملک پر تجارتی پابندیاں عائید کرنے کے لیے SWIFT کو استعمال کرتا ہے، اس لیے روس نے کسی ایسے خطرے سے بچنے کے لیے اپنا الگ متبادل SWIFT نظام بنا کر تیار رکھا ہے، جو عالمی سطح پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ روس کے کئی بینکوں نے چین کا سویفٹ سسٹم (China International Payments System) استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ اکتوبر 2019ء سے ترکی نے روس کا سویفٹ سسٹم استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ اگست 2018ء میں جرمنی نے بھی مطالبہ کر دیا ہے کہ امریکی ڈالر کی بالادستی کے خلاف ایک الگ یورپی مونیٹری فنڈ ہونا چاہیئے اور اس کا اپنا آزادانہ سویفٹ سسٹم ہونا چاہیئے۔ 31 جنوری 2019ء کو فرانس نے سوئفٹ کا متبادل INSTEX پیش کر دیا ہے، تاکہ یورپی ممالک امریکی پابندیوں کے باوجود ایران سے تجارت جاری رکھ سکیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ اقدامات امریکا کے دشمنوں کی بجائے دوست کر رہے ہیں۔
جس کے پاس یہ طاقت ہو کہ وہ بڑے ممالک کے بڑے بینکوں کو کنگال کرسکے، وہ ان بڑے ممالک کی حکومت پر بھی حاکمیت رکھتا ہے۔ سویٹزرلینڈ کے سب سے پرانے بینک Wegelin کی مثال بالکل واضح ہے۔ (FATCA (Foreign Account Tax Compliance Act وہ قانون ہے، جو دنیا بھر کے بینکوں کو امریکا کا مالیاتی جاسوس بنا دیتا ہے۔ چونکہ امریکا خود اپنے بینکوں کو اس قانون سے آزاد قرار دیتا ہے، اس لیے دنیا بھر کا کالا دھن (بلیک منی) اب صرف امریکا میں چھپانا ممکن رہ گیا ہے۔ امریکا کا سب سے طاقتور ہتھیار گولی نہیں چلاتا، نہ اْڑتا ہے، نہ پھٹتا ہے۔ یہ نہ آبدوز ہے نہ ہوائی جہاز ہے، نہ ٹینک ہے نہ لیزر، امریکا کا سب سے طاقتور جنگی ہتھیار آج ڈالر ہے۔ امریکا اسے مہارت سے استعمال کرتے ہوئے دوستوں کو نوازتا ہے اور دشمنوں کو سزا دیتا ہے۔ دنیا بھر کی بچت کا 60 فیصد، عالمی ادائیگیوں کا 80 فیصد اور تیل کی عالمی خریداری کا لگ بھگ سو فیصد امریکی ڈالر کی صورت میں انجام پاتا ہے۔ ڈالر سے صرف اسلامی ممالک کو ہی نہیں بلکہ کئی مغربی اور افریقی ممالک کو بھی شدید پریشانی ہے۔ اس لیے سارے حل کی تلاش میں ہیں۔ ملائیشیاء سمٹ میں مشترکہ اسلامی کرنسی کی تجویز اسی سلسلے کی کڑی ہے۔
ڈالر نہیں سونا
دنیا بھر میں جہاں ڈالر پر اعتماد کم ہو رہا ہے، وہاں اس کا متبادل سونا جمع کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق چین نے بڑے پیمانے پر سونا خریدنا شروع کر دیا ہے، ہیروں کے کاروبار سے منسلک ایک بڑی روسی کمپنی نے حال ہی میں ڈالر کی بجائے روبل میں عالمی تجارت کے نئے نظام کا تجربہ کیا، روسی کمپنی نے چین اور انڈیا کے ساتھ تجارت کے دوران پچاس فیصد ٹرانزکشن نئے نظام کے تحت روبل میں کیا گیا۔ یورپی ملکوں نے سونا جمع کرنا شروع کر دیا ہے، یورپی ملک پولینڈ نے گذشتہ دو عشروں کے دوران پہلی مرتبہ اپنے سونے کے ذخائر میں اضافہ کیا۔ اس کی پیروی کرتے ہوئے ہنگری کے مرکزی بینک (ایم این بی) نے بھی اکتوبر میں سونا خریدتے ہوئے اپنے سونے کے ذخائر میں ایک ہزار فیصد کا اضافہ کیا۔ پہلے اس مشرقی یورپی ملک کے پاس تین اعشاریہ ایک ٹن سونا تھا، جو اب اکتیس اعشاریہ پانچ ٹن ہوگیا ہے۔
کیا ہنگری اور پولینڈ اپنے ہاں معاشی صورتحال کے بارے میں پریشان ہیں؟ کیا وہ ڈالر کا استعمال کم کرنا چاہتے ہیں یا انہیں ممکنہ یورپی پابندیوں کا خدشہ ہے؟ ہنگری اور پولینڈ کی طرف سے سونے کی خریداری کا تعلق اس سے بھی ہوسکتا ہے کہ بہت سے ممالک ڈالر سے دوری اختیار کرنے کا سوچ رہے ہیں۔ ان ممالک کے خیال میں ان کا ڈالر پر انحصار بہت بڑھ چکا ہے اور انہیں اپنے مالیاتی ذخائر ڈالر سے کسی دوسری شکل یا کرنسی میں منتقل کرنا چاہیئں۔ دنیا میں ڈالر کو محفوظ کرنسی کے طور پر کم استعمال کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ مثال کے طور پر آسٹریلیا، جنوبی کوریا، ترکی اور قزاقستان نے اپنی اپنی ملکی کرنسیوں کے تبادلے میں باہمی تجارت کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اسی طرح جرمنی اور چین بھی یوآن اور یورو میں تجارت کرنے پر رضامند ہوچکے ہیں۔ پاکستان اور چین نے بھی یوآن میں تجارت پر اتفاق کیا ہے۔ چین نے 2007ء کے بعد سے سونے کی خریداری میں ایک ہزار فیصد تک اضافہ کیا ہے۔ روس اور چین


































